183

بجٹ: خسارے کی سیاسی معیشت انگیخت: امتیاز عالم

Spread the love

یہ بجٹ آخر بنایا کس نے، کس کے ایما پر، کس کے لیے اور کس کام کا؟ یہ وہ بنیادی سوال ہیں جن کی تلاش کی میڈیا کو کوئی چنتا ہے، نہ ماہرین کو کوئی تشویش۔ مشروط شرف پذیرائی ملا بھی تو عالمی مالیاتی ریٹنگ ایجنسی مودی جس نے ٹیکسوں کی بھرمار پہ آئی ایم ایف کی اشیرباد کی شنید دی یا پھر سٹاک مارکیٹ پہ سٹہ بازوں نے بازار کی رونق کا نظارہ پیش کرکے۔ لیکن لگتا ہے کہ غریب شہر کے چیتھڑے اُڑانے کے لیے 800 ارب روپے سے زائد کے نئے ٹیکسوں اور ترقیاتی بجٹ کی کھال اُدھیڑنے کے لیے منی بجٹ بھی آئے گا اور مہنگائی کا ایک اور ریلا بھی اور معاشی نمو ذراعت کی انجینئرڈ خسارہ سازی کے ہاتھوں آبادی کی شرح کے اضافے سے نیچے نہ سہی، آگے بڑھنے والی نہیں۔ اب آتے ہیں اپنے ابتدائی بنیادی سوالات پر! بجٹ بنایا کس نے جسکی وضاحتیں دیتے وزرا ہانپنے لگتے ہیں یا پھر ایک بنکر وزیر خزانہ اپنے اصل بجٹ صارفین یا مستفضین کی داد نہ ملنے پر مخصوص کاروباری مسکراہٹ سے آنے والے دنوں کی کثافت پہ پردہ ڈالنے کی کوشش میں ناکام دکھائی پڑتے ہیں۔ اطلاع یہی ہے کہ معاشی اقتدار اعلیٰ کچھ زیادہ ہی عالمی مالیاتی فنڈ کے پاس رہن رکھا جاچکا ہے۔ گو کہ اس بار پندرہ سو ارب کے نئے ٹیکس عائد کیے گئے ہیں جو آئی ایم ایف کے 2.3 کھرب کے ٹارگٹ سے کہیں کم ہیں اور تنخواہ دار و غیر تنخواہ دار ٹیکس دھندگان پر 35 سے 40 فیصد بھاری ٹیکس لاد دیا گیا ہے اور تنخواہ دار سفید پوش 75 ارب روپے کا مزید بوجھ پڑنے پر چیخ چلارہے ہیں تو سننے والا کوئی نہیں۔ تو کیا 75 رکنی ن لیگ کی اقلیتی کابینہ اس بجٹ کی منظوری کے گناہ میں شامل ہے؟ میرے خیال میں یہ تہمت ہے۔ بڑی اتحادی پیپلزپارٹی تنہائی کے سرد کونے میں ٹھٹھرتی چھوٹے موٹے فائدے اٹھانے کے باوجود اس گناہ بے لزت کا بوجھ اُٹھانے پہ تیار نہیں۔ رہی حذب اختلاف یا پی ٹی آٹی تو اس کے پاس بجٹ پڑھ کر متبادل تجاویز دینے کی صلاحیت ہے نہ فرصت، بس بجٹ دستاویزات کی کاپیاں پھاڑ کر ہوا میں اُڑانے کے علاوہ اسے آتا ہی کیا ہے۔ حکومتی حلقوں میں کوئی تلملا رہا ہے تو وہ ہیں اسحاق ڈار یا پھر نواز شریف جن کے پر کاٹ دیے گئے ہیں۔ تو پھر لگتا ہے کہ یہ بجٹ پاکستانی اور عالمی مالیاتی نوکر شاہی کا پٹا پٹایا نسخہ ہے جسکی نظر محض بیماری کی علامات یعنی مالی و مالیاتی خسارے ہیں، نہ کہ حقیقی پیداواری اور پائیدار معاشی نمو کے اصل تقاضے۔ ان کا نسخہ فقط یہ ہے کہ ترقی و تنزلی کے بار بار پھولتے اور پھٹتے غبارے کو معاشی نمو روک کر ایک پچکے ہوئے غبارے کی صورت نیچی پرواز پہ رکھا جائے کہ دست نگر معیشت اور خرام خور مافیہ بچا کھچا مال غنیمہ سمیٹتی رہے۔ اب سوال ہے کہ یہ بجٹ کس کیلئے ہے جسکا جواب نیولبرل معاشی نظریہ کے حامل عالمی مالیاتی وظیفہ خوروں کے پاس نہیں، اسکا جواب سیاسی معیشت کے پاس ہے۔ یہ بجٹ تاجروں یعنی دکانداروں، بڑے زمینداروں، مفت خور مافیاؤں اور کالے دھن کے اسٹیٹ بزنس والوں کا ہے جن کی کیش پر فائلیں چلتی ہیں۔ جبکہ پراپرٹی ٹیکس کا بوجھ اس آمدنی پہ پڑنا ہے جس پر ٹیکس ادا کیا جاچکا تھا۔ غریبوں کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام و دیگر امدادی سکیموں کی سیاسی بھیک کے سوا کچھ نہیں۔ ٹیکس کا سارا بوجھ پہلے سے موجود ٹیکس دھندگان پر۔ کوئی مستقل فیض مند ہے تو عالمی سود خور یا پھر ہماری سلامتی کو درپیش مستقبل خطرات سے نمٹنے کا جزیہ!
خیر سے آئندہ برس 9775 ارب سود پر اُڑجائیں گے تو 8500 ارب روپے قرضے لے کر غیر پیداواری اخراجات پورے کیے جائیں گے۔ جب ہر طرف سے خطرات بڑھیں گے اور برقرار رکھے جائیں گے تو ملکی دفاع سے غفلت کون برت سکتا ہے۔ لہٰذا، اس بار دفاع اور اس سے متعلق اخراجات 3200 ارب روپے ہونے جارہے ہیں جس میں 602 ارب روپے کی پنشنر، 400 ارب روپے کا سپیشل پیکیج بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ قومی سیکرٹ ہے جسے افشا کرنا غداری کے مترادف ہے۔ معاشی سلامتی نہ رہی تو کون ملکی سلامتی کو خطرے میں ڈالے؟ اگر کام کی بات بجٹ میں ڈھونڈی جائے تو کچھ شعبوں میں ٹیکس کے اجرا کی نیم دلانا کوشش اور 1400 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ ہے۔ لیکن یہ ہماری روایت ہے کہ ہر برس مالی خسارہ ترقیاتی بجٹ کی نصف سے زیادہ کٹوتی سے پورا کیا جاتا ہے۔ اگر حکومت نے آئی ایم ایف کی منشا کے مطابق 800 ارب کے مزید ٹیکس نہ لگائے تو ترقیاتی بجٹ کا قربانی کا بکرہ تو کٹنے کو موجود ہے۔ کوئی ان نمائندگان سے پوچھے کہ پائیدار ترقی کے لیے انسانی ترقی و سلامتی کے لیے بجٹ میں دی گئی جو چھوٹی موٹی رقم موجود ہوتی ہے وہ انکے “ترقیاتی دوزخ” کا پیٹ بھرنے کے لیے کیوں استعمال کی جاتی ہے۔ پھر حکومتوں کے باپ کا پیسہ ہے جو یہ سیاسی رشوت کے طور پر مختلف ضرورت مندوں کو ذاتی طور پر احسان مند بنانے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ کبھی ان حکومتوں میں شامل زیادہ تر عہدیداران نے اپنا جائز ٹیکس بھی ادا کیا اور بعض مراعات کو چھوڑنے کی فیاضی کے پیچھے چھپے ہوئے بڑے بڑے میگا پراجیکٹس میں ہاتھ کی صفائی کی مہارت دکھانے کے کرتبوں سے کون واقف نہیں۔ کوئی پوچھے ان سنگدل منصوبہ سازوں سے کہ 24 فیصد مہنگائی جس کا تعین 38 فیصد مہنگائی کی پرانی شرح کو سامنے رکھ کر کیا گیا ہے (اور شوبازی کی گئی ہے کہ مہنگائی گزشتہ ماہ 11 فیصد ہوگئی) کے ہوتے ہوئے فقط 5000 روپے ماہوار اجرت ٍبڑھانے سے محنت کش عوام کے جم غفیر کی دو وقت کی روٹی کیسے پوری ہوگی۔ لیکن ن لیگ کی حکومتیں کسانوں کی گندم کی فضل لٹنے دے کر روٹی سستی کرنے کی دعویدار بن رہی ہیں تو یہ بڑی سفاکی ہے۔ کسان تباہ اور روٹی سستی۔ کوئی یہ بھی پوچھے کہ آپکا ٹیکس کی جی ڈی پی میں شرح 13 فیصد بڑھانے کا عزم اپنی جگہ، لیکن یہ تقریباً 4000 ارب کے اُمرا کو حاصل استثناؤں کا خاتمہ کرتے ہوئے آپکو کیوں غشی آتی ہے۔ ایس آئی ایف سی کے ون ونڈو آپریشن کے نام پر جو سرمایہ کاری کی بارش ہونی تھی، اس کو کہیں سے ایک قطرہ بھی مل پایا جبکہ اسکی خاطر پورے وفاقی اور قومی اکائیوں کے آئینی ڈھانچے کو مسمار کردیا گیا ہے اور حد تو یہ ہے کہ بجٹ کی غیر مقبول ذمہ داری فارم 47 والوں کے سر منڈھ دی گئی ہے ۔ رہا نیشنل فائنانس کمیشن کی مالیاتی تقسیم پہ ریاستی نوکر شاہانہ مروڑ تو اسے پٹرولیم پر 1281 ارب کا لیوی لگا کر اور نان ٹیکس ریونیو کو 4850 ارب روپے تک بڑھا کر وفاقی خزانے میں ڈال دیا گیا ہے۔
محترم شہباز شریف بس پانچ کام کردیں۔ پانچ ہزار روپے کا نوٹ کینسل کر کے تین سالہ بانڈز دے دیں۔ تمام وہ وفاقی ادارے اور وزارتیں ختم کردیں جو صوبائی دائرہ کار میں ہیں۔ چار ہزار ارب کی ٹیکس استثنیات واپس لے لیں اور سی پیک کے دوسرے مرحلے کی کامیابی پر اپنی ساری اسپیڈ لگادیں۔ اور پاک بھارت تعلقات بہتر کرنے کے لیے کشمیر کمیٹی کی سربراہی نواز شریف کے حوالے کردیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں