225

آرمی چیف کا تقاضہ اور شیروانی کا نسخہ انگیخت: امتیاز عالم

Spread the love

آج ذاتی اُداسی اور قومی پریشانی کے ماحول میں موضوع کی تلاش میں بیٹھا قلم خلا میں گھما رہا تھا کہ سپہ سالار عزیزم سید عاصم منیر کے سبز پاکستان کی پیش قدمی بارے سیمینار میں تقریر کی شہ سرخی نے توجہ مبذول کرلی کہ ‘‘معاشی استحکام کے بغیر مکمل خود مختاری ممکن نہیں’’۔ (جس کے لیئے) ‘‘قوم کو متحد ہونے کی ضرورت ہے’’۔ سپہ سالار نے جو عقدہ کھولا بھی تو اس میں ‘‘معاشی عدم استحکام’’ عنقا کیوں ہے کا جواب تشنہ ہے۔ اور ‘‘قوم کو متحد کرنے کی ضرورت’’ بجاہے، لیکن باہم دست وگریباں منقسم قوم متحد ہو تو کیسے کا جواب بھی شفاعت کا متمنی ہے۔ ابھی ڈرا ڈرا اس بارے سوچ ہی رہا رھا تھا کہ ہفتہ ہی کو ڈان میں سیاسی معیشت دان ثاقب شیرانی کے ہوش کُشا کالم بعنوان ‘‘عظیم خود فریبی’’ پہ نظریں اٹک گئیں۔ شیرانی نے گویا فریب کا عقدہ کھول کر رکھ دیا۔ شیرانی نے تیکھا سوال اُٹھا یا ہے کہ کیا پاکستان کی موجودہ زبوں حالی کی بنیادی وجہ معاشی بے حالی ہے یا پھر یہ کہ معیشت کی دگرگوں حالت کی اصل وجہ پاکستان کا طرز حکمرانی ہے۔ ستتر برس سے جاری مال/کرایہ خور اشرافیہ کی حکمرانی ہوتے ہوئے بھلے طرز حکمرانی آمرانہ ہو یا جمہوری اس سے فرق پڑنے والا نہیں۔ اس ضمن میں چین، جنوبی کوریا اور سنگاپور کے آمرانہ سیاسی ماڈل کی ترقی کی زبردست مثالوں کو دیتے ہوئے یہ نہیں بھلانا چاہیے کہ درجنوں پسماندہ ممالک آمرانہ طرز حکمرانی کے ترقی کے ماڈل سے فیضیاب نہ ہو پائے۔ شیرانی نے آمرانہ ماڈل کی کامیاب اور ناکام مثالوں کے پیچھے جو وجہ تلاش کی ہے وہ یہ ہے کہ کامیاب آمرانہ یا جمہوری ماڈال کے پیچھے ایک ایسی اشرافیہ ہے جو شمولیتی (Inclusive) کردار کی حامل ہے جبکہ ناکام آمرانہ ماڈل کے پیچھے مال/کرایہ خور اشرافیہ (Extractive Elite) کا کردار ہوتا ہے جو تبدیل ہونے کو تیار نہیں کہ خود اصلاحی اسکی خصلت سے لگا نہیں کھاتی۔ ایک طرح کے خود کش (Entropy) نظام حکمرانی کی ناکامی کا بوجھ صرف معیشت کی خرابی، اشرافیہ کے عدم اتفاق، معاشی میثاق کے نہ ہونے یا سیاستدانوں کی ناکامی پہ نہیں ڈالا جاسکتا۔ نکمے اداروں کے ہجوم میں کسی ایک ادارے کی بلا شرکت غیرے قومی فعالیت پہ انحصار سے مسائیلستان کے آمرانہ حل کے ایوبی، ضیاء، مشرفی نسخوں کاحشر ہم دیکھ چکے۔ 1988 سے 1999 کے دوران سیاسی اسقاط کے تواتر کی دہائی کے بعد 2008 تا 2024 کے بے مہر جمہوری عبور کی عصمت دری اور ہائبرڑ حکومتوں کے دوہرے نظام کی عدم پائیداری کے جاری تسلسل سے معاشی استحکام آیا نہ سیاسی چین نصیب ہوا۔ اور شیرانی کے خیال میں مال/کرایہ خور مفتی و خاکی اشرافیہ سے جان چھڑائے بنا اور سیاسی معیشت میں بنیادی تبدیلی لائے بغیر نظام کہنہ میں بنیادی اصلاحات ممکن نہیں ہیں۔ 2012، 2018 اور 2024 میں عوامی مینڈیٹس کی قربانی پر بنائی گئیں ہائبرڈ حکومتوں کی ناکامی کے بعد حال ہی میں ایک دھائی کے لیے عسکری حمائیت سے ٹیکنوکریٹس کے ناکام بنگلہ دیشی ماڈل کی جانب رجوع کی تجویز اس مشکوک مفروضے پہ دی گئی ہے کہ جب سب ادارے گلے سڑے نظام کو طوالت دینے میں ناکام ہوگئے تو پھر سے ٹیکنوکریٹس کی مدد سے ذوقِ خدائی والوں کو کیوں نہ ایک اور موقع دیا جائے۔ اور ایسے سنہری مواقع کئی بار گنوا کر ہم انہیں دہرانے سے گریزاں نہیں ہیں تو اللہ حافظ ہے!
آرمی چیف سید عاصم منیر صاحب کو جو کچھ اپنے پیشرو سے ورثے میں ملا ہے وہ اُن کی بیڑیاں کیوں بنے۔ پاک فوج نے تو سیاست سے توبہ کی تھی جبکہ اب کسی جامِ ارغوانی کی اُمید بھی نہیں۔ افواجِ پاکستان کے لیئے قومی و جغرافیائی سلامتی کو برقرار رکھنا ہی کافی ہے۔ لگتاہے کہ عسکری مداخلت کے ڈانڈے ہر سو پھیل گئے ہیں۔ ضرورت انہیں سمیٹنے کی ہے، مزید پھیلانے کی نہیں۔ حقِ رائے دہی کے سرقہ سے عوام بیگانہ ہو چکے ہیں تو قوم متحد ہو تو کیوں اور کس بنیاد ہر۔ اب عدلیہ بھی مداخلت بے جا پہ سراپہ احتجاج ہے۔ جبکہ سوشل میڈیا پر ڈس انفارمیشن کا طوفان اس لیئے بپا ہے اور تھم نہیں سکے گا کہ مین اسٹریم میڈیا سنسرشپ کے ہاتھوں اپنا اخلاقی جواز کھو بیٹھاہے۔ طاقت کے حد سے بڑھے ہوئے ارتکاز کے اپنے خطرناک مضمرات ہوتے ہیں جبکہ نظام حکمرانی عوامی شمولیئت اور حکمران طبقوں کے مابین سیاسی و معاشی میثاق کا متقاضی ہے۔ خوش قسمتی سے مخلوط حکومت میں شامل اقلیئتی چماعتیں اکثریتی جماعت (PTI) سے بات چیت کو تیار ہیں، لیکن زخم خوردہ جماعت سیاستدانوں سے نامہ و پیام کو تیار نہیں۔ عمران خان عسکری قیادت سے مکالمہ کرنے اور معاملات طے کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں جو اُنکے آئینی و قانونی حکمرانی کے دعوؤں اور جمہور کی حکمرانی کے اصولوں کی نفی ہے۔ اگر عسکری قیادت ہی نے سیاسی آربٹریشن کرنی ہے تو پھر پارلیمانی سیاست کی نفی اور جمہورئیت کی چھٹی کرانے کی زمہ داری اپوزیشن پر عائد ہوگی۔ بہتر ہوتا کہ سیاست کے اختلافات سیاستدان ہی باہم مل بیٹھ کر حل کرلیتے۔چونکہ معاشی استحکام، سیاسی استحکام کے بغیر ممکن نہیں، سپہ سالار کو قومی اتفاق رائے کی راہ ہموار کرنے کے لیئے قومی مفاہمت کی جانب پیش قدمی بارے سوچنا چاہیئے۔ موجودہ حالات میں پارلیمینٹ میں موجود حکمران جماعتوں کا اگر فوج پہ انحصار ہے اور عمران خان بھی عسکری قیادت کی طرف ہی دیکھ رہے ہیں تو فوجی قیادت ہی مصالحت کنندہ کا کردار ادا کرسکتی ہے۔ تو پھر جمہورئیت سے توبہ کا گناہ سیاستدانوں کے سر ہی ہوگا۔ اندریں حالات سپہ سالار کو شیروانی کے نسخہ کیمیا سے رجوع کرنے پہ غور کرنا چاہیئے۔
(تعزئیت: وہ بھی کیا عجب شخص تھا جو شرمندہ اعزازئیے کے باجود کئی قلموں کا بوجھ اُٹھائے چلتا بنا۔ لیجیے اس کالم نویس کے مہربان اور مارکسی استاد سید تقی کے فرزند ارجمند سید حیدر تقی اپنا دُکھ اور روگِ زندگی بتائے بنا ہی راہ عدم سدھار گئے اور ہمیں خبر ملی بھی تو دیر سے۔ آج جب کالم لکھنے بیٹھا تو ادارتی ریمائنڈر ملا نہ کوئی اصرار۔ شاید حیدر بھائی ہی جنگ کے ادارتی صفحہ سے برادرم سہیل وڈائچ کے بعد آخری وصیلہ تھے جو نہ رہا۔ ایسا متین، اتنا مہذب اور کھرا شخص ڈھونڈے سے مشکل ملے۔ جوار رحمت کا حقدار اس سے زیادہ کون ہوگا۔)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں