176

اب نہیں تو پھر نہیں انگیخت: امتیاز عالم

Spread the love

جمہوری تسلسل کے خیر خواہ اور غیر آئینی شب خون کے ہاتھوں ڈسے ہوئے سبھی جمہوریت خواں مبارک کے مستحق ہیں جنہوں نے متحارب سیاسی قوتوں کو انتخابات کے معاملات پر اتفاق رائے پیدا کرنے پہ راغب کیا۔ برف پگھلی بھی تو سول سوسائٹی کے چھوٹے سے مصالحت کار گروپ کی ابتدائی کاوشوں سے۔ عمران خان، سراج الحق، اختر مینگل، محمود خان اچکزئی، ڈاکٹر مالک، محسن داوڑ، اختر حسین، فرحت اللہ بابر، مشاہد حسین، رضا ربانی، اعظم تارڑ، فواد چوہدری، حسن رضا پاشا، افضل بٹ، حسین نقی، سول سوسائٹی کے گروپ میڈی ایٹرز اور سب سے بڑھ کر آصف زرداری اور بلاول بھٹو کی بات چیت کیلئے پیش قدمی قابل تحسین ہے۔ بات چیت سے وہ بھی مفر نہ کر پائے جوایک دوسرے کا منہ دیکھنے کو روادار نہ تھے۔ بیچ میں آن کھڑا ہو سپریم کورٹ کا تین رکنی بنچ جس کے متنازعہ فیصلوں پر عملدرآمد سے انکار نے پورے سیاسی عمل کو محاذ آرائی کی بند گلی میں دھکیل دیا۔ جب سب اداروں نے عدالت عظمیٰ کے احکامات جو خود عدلیہ کے اندر خوفناک تقسیم کے ہاتھوں اپنا اخلاقی جواز کھو بیٹھے تو ریاستی اداروں کے عدم تعاون سے ایک طرح کا آئینی بریک ڈاﺅن ہوچلا تھا۔ خیر سے کوئی بونا پارٹسٹ یا جنرل ضیا الحق ٹائپ مہم جو گھات لگائے نہ بیٹھا تھا کہ میرے عظیم ہم وطنوں کو ایک قہر آلود تقریر سننا پڑتی۔ سلامتی کی پس پشت بریفنگ کارگر رہی اور بچی کھچی پارلیمنٹ بھی اپنے اداراتی احترام میں ڈٹ کر کھڑی ہوگئی۔ داد دینی چاہیے چیف جسٹس فاروق بندیال کو جنہوں نے خاور شاہ ایڈووکیٹ کے درخواست گزار کی سیاسی مکالمے کی درخواست کو پذیرائی بخشی اور بعداز خرابی بسیار انتخابات کی گیند سیاستدانوں کی کورٹ میں پھینکتے ہوئے خود کو کوئلوں کی دلالی میں منہ کالا کروانے سے بچالیا۔ جب چیف جسٹس نے 14 مئی کو پنجاب میں انتخابات کے انعقاد کے حکم نالے کو ایک طرف رکھتے ہوئے معاملہ سیاستدانوں کے حوالے کردیا تو، محترم وزیراعظم کو حاتم طائی بننے کی کیا ضرورت تھی۔ پارلیمنٹ کی خود مختاری کی تلوار خالی خولی ہوا میں لہرانے سے پارلیمانی بالادستی ہونے سے رہی اور ایسے وقت میں جب قومی اسمبلی کے تقریباً آدھے اراکین معلوم نہیں کہ وہ رکن ہیں بھی یا نہیں۔ سپیکر صاحب تو انکی فاتحہ پڑھ چکے، لیکن عدالت ہائے عالیہ الیکشن کمشن کے ان کی نشستوں کے خالی ہونے کے نوٹیفکیشن خارج کر بھی چکیں۔ گزشتہ ایک برس کی سیاسی دھینگا مشتی میں آئین کی سویلین ہاتھوں خواہ وہ پارلیمنٹ یا سیاستدان ہوں یا پھر جج صاحبان کے ہاتھوں جو بے توقیری اور توہین ہوئی اور اس دوران جو غیر آئینی، غیر پارلیمانی اور غیر جمہوری روایات مرتب ہوئیں وہ ان اداروں کے آئندہ کنڈکٹ کیلئے گھناﺅنے خواب سے کم نہیں۔ عدلیہ کی بحالی کی تحریک کے بعد جو سیاسی و انتظامی طور پر تباہ کن جوڈیشل ایکٹوازم شروع ہوا وہ جاری رہا اور صاف طور پر ایک جانبدارانہ سیاسی دھڑے باز کے طور پر تو اسے جو بے پرکے اور متضاد عدالتی نظائر ترتیب پائے وہ عدالت ہائے عالیہ و عظمیٰ کیلئے سوھان روح ثابت ہونگے۔ دریں اثنا عدالتی ہٹ درمی نے موصوفہ عظمیٰ و عالیہ کی تکریم کے پلے بچا ہی کیا ہے کہ اسکے احترام میں کورنش بجا لائی جائے۔ گو کہ پارلیمنٹ کے اندر سے عدم اعتماد کی تحریک نے عسکری ہاتھوں سے تراشیدہ ہائبرڈ یا عجیب الخلقت نظام کو زمین بوس تو کردیا، لیکن پورا انجینئرڈ سیاسی بندوبست اُلٹ پلٹ گیا۔ ڈپٹی سپیکر سوری سے وزیراعظم عمران خان اور صدر مملکت تک آئین کی ایسی بیخ کنی کی کہ عدالت عظمیٰ نے پارلیمنٹ کے معاملات میں مداخلت کے وہ اختیارات بھی اُچک لیے جو وہم و گماں میں بھی نہ تھے۔ پھر سلسلہ 63-A کو خود سے لکھنے، اسمبلی کی کارروائیوں کو روکنے اور ڈائریکٹ کرنے، اعتماد و عدم اعتماد کے ووٹوں کی کایا پلٹنے تک عدالتی اختیارات پھیلتے چلے گئے۔ جس کے نتیجہ میں سیاسی بحران گھمبیر تر ہوتا چلا گیا۔ یہ رکا بھی تو تب جب عدالت عظمیٰ کے پَر سیاسی آگ میں چلنے لگے اور اس کی عمارت میں شگاف پڑگئے۔ بہرکیف، لگتا ہے سہہ طرفہ سویلین فریقین بے مقصد ٹکریں مار مار کر بے حال ہوچکے ہیں اور بات چیت کے انٹرویل کا اعلان ہوچکا ہے۔
تحریک انصاف اور پی ڈی ایم و پیپلزپارٹی کے وفود میں مذاکرات کے دو دور ہوچکے ہیں اور ہر دو اطراف کا ماننا ہے کہ بات چیت اچھے ماحول میں جاری ہے۔ بڑی رکاوٹیں پہلے ہی دور ہوچکی ہیں جیسے 90 روز کے اندر انتخابات کے انعقاد پر آرٹیکل 224(2) کے تحت پابندی جو کبھی کی گزرچکی۔ ایک ہی روز منصفانہ انتخابات کی آئینی سکیم کے ساتھ یہ سقم رہا کہ ایک یا دو اسمبلیوں کے مختلف اوقات میں تحلیل ہونے کی صورت میں انتخابات پوری نئی ٹرم کیلئے ہوں گے جس سے پوری آئینی سکیم تلپٹ ہوکر رہ جاتی ہے۔ بہتر ہوگا کہ قبل از وقت اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد ہونے والے انتخابات کو اس اسمبلی کی بقیہ مدت کیلئے ضمنی انتخاب قرار دیا جائے جو 60 روز میں بھی ہوسکتے ہیں۔ دوسرا مسئلہ 14 مئی کو پنجاب میں انتخابات کے انعقاد کا تھا جس پر عمران خان اپنی حکمت عملی کے تحت مصر تھے، اب اسکا امکان بھی معدوم ہوچکا ہے۔ لہٰذا اب ایجنڈے پہ سوال صرف ایک ہی ہے کہ ایک ہی روز تمام اسمبلیوں کے انتخابات پہ اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔ اس میں بڑا مسئلہ آئی ایم ایف کی ڈیل کے تحت اگلے بجٹ کا ہے۔ تحریک انصاف کو اعتراض ہے کہ حکومت اس بجٹ کو انتخابی مہم کیلئے استعمال کرتے ہوئے بڑا معاشی بحران پیدا کردے گی۔ لہٰذا بجٹ عبوری انتظامیہ یا اگلی منتخب حکومت پیش کرے اور مئی میں اسمبلیاں برخواست کردی جائیں۔ لیکن اگلا بجٹ بھی آئی ایم ایف نے بنانا ہے اور اسے پاس ایک منتخب اسمبلی نے کرنا ہے اور اس کے لیے شاید آئی ایم ایف یقین دہانی چاہے گا کہ اگلی حکومت بھی اسے جاری رکھے۔ لہٰذا ملکی مفاد اسی میں ہے کہ حکومت اور تحریک انصاف کی جوائنٹ بجٹ کمیٹی متفقہ بجٹ ترتیب دے اور سب اسکے نفع نقصان میں برابر کے حصہ دار بنیں۔ اگر اس پر اتفاق ہوجاتا ہے اور قومی مفاد بھی اسی میں ہے تو پھر عمران خان کو ستمبر میں انتخابات کے انعقاد کی پی ڈی ایم کی تجویز پر کوئی بڑا اختلاف نہیں ہونا چاہیے۔ اس پر اتفاق ہونے کی صورت میں سوال ہے کہ سیاسی جماعتوں میں اتفاق کی صورت میں اس پر عمل درآمد کی گارنٹی کون دے۔ کچھ کہتے ہیں کہ فوج دے جو بار بار کہہ رہی ہے کہ سیاستدان فوج کو سیاست میں مت کھینچیں۔
آئینی و جمہوری و پارلیمانی تقاضہ ہے کہ اس معاہدے اور آئین سے انحراف اور آئینی ابہامات کو دور کرنے کیلئے تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی کے استعفے واپس کرنے کے لیے کوئی قانونی و سیاسی راستہ نکالا جائے۔ آزادانہ و منصفانہ انتخابات اور جمہوریت و پارلیمان کی بالادستی کیلئے تمام جماعتیں کسی آئینی و جمہوری میثاق پر اتفاق رائے پیدا کریں اور پاکستان کے عوام کو انکے بنیادی حقوق کی پاسداری کا عہد کریں۔ جمہوری اور پرامن ماحول بنانے کے لیے انتقامی کارروائیاں اور غیر مہذب اشتعال انگیز بیان بازی بند کی جائے اور بے جا مقدمات ختم کیے جائیں۔ لیکن کیا سیاسی جماعتیں جمہوری طرز عمل کا کامل یقین دلائیں گی اور بنیادی انسانی حقوق کا احترام کریں گی؟اب نہیں تو پھر نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں