174

منزل ہے کہاں تیری اے لالہ صحرائی؟ (۲۳ مارچ: یوم پاکستان) انگیخت: امتیاز عالم

Spread the love

علامہ اقبال نے تو لالہ صحرائی کی منزل کو سوالیہ نشان کے سپرد کرکے عقیدہ جبریت سے خلاصی چاہی تھی، لیکن کارل مارکس نے کوئی کسر نہ چھوڑی اور کیا خوب کہا تھا کہ عوام تاریخ بناتے ہیں، لیکن ضروری نہیں کہ ویسی ہی بنے جو سوچی تھی۔
کچھ ایسا ہی 23 مارچ 1940کوقرارداد لاہور کے ساتھ تاریخ نے کیا جس میں کہا گیا:”آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس کی یہ رائے ہےکہ کوئی بھی آئینی منصوبہ اس ملک میں قابل عمل اور مسلمانوں کے لیئے قابل قبول نہیں ہوگا تاوقتیکہ وہ مندرجہ ذیل اصول پر وضح نہ کیا گیا ہو: یعنی جغرافیائی طور پر متصلہ علاقوں کی حد بندی ایسے خطوں میں کی جائے جن علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت ہےمثلاً ہندوستان کے شمال مشرقی اور مغربی حصے، اُنکی تشکیل ایسی آزاد ریاستوں کی صورت کی جائے جسکی مشمولہ وحدتیں خودمختار اور مقتدر ہوں -نیز ان وحدتوں اور خطوں میں اقلیتوں کے مذہبی، ثقافتی، معاشی، سیاسی، انتظامی اور دیگر حقوق و مفادات کا مناسب، موثر اور حتمی تحفظ ان کے مشورے سے آئین میں صراحت کے ساتھ پیش کیا جائے “۔ اسکا جواب بھی خود اقبال نےکالم کے عنوان میں دیئے گئے مصرعہ سے پہلے ہی دے کر جان کی امان پائی تھی:
بھٹکا ہو راہی میں، بھٹکا ہوا راہی تو
قراداد لاہور جو بعد ازاں قرارداد پاکستان ٹھہری اور فرقہ وارنہ تقسیم کے خونی دریا سے گزر کر جو مملکت خداد بنی بھی تو اسے محمد علی جناح کِرم خوردہ پاکستان قرار دے کر گہرے تاسف کا اظہار کیے بغیر نہ رہ سکے تھے۔ بنگال اور پنجاب کی مذہبی بنیاد پرتقسیم ان کے لیئے سوحانِ روح ثابت ہوئی۔ وہ تقسیم ہندوستان کے مجوزہ اعلان سے ایک روز پہلے رات گئے تک آخری برطانوی وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو اپنے ہی دو قومی تقسیم کے نظریہ سے ہٹ کر پنجاب اور بنگال کو تقسیم نہ کرنے پہ اپنے ہی مذہبی بٹوارے کے نظریہ کے باعث قائل کرنے کی آخری کوشش میں ناکام رہے تھے۔ بلکہ یہ کہا جانا بہتر ہوگا کہ برصغیر کی آزادی کے بڑے پُرکھوں بشمول گاندھی، جناح اور نہرو کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ آزادی کی صبح سورج کے لہو میں لتھڑی ہوئی شام ہو کے رہ جائے گی۔ مہاتمہ گاندھی جی واحد نیتا تھے اور انکے ساتھ حسین شہید سہرہ وردی، ڈاکٹر اُمبیدکر اور باچاخان جیسے رہنما تھے جنہوں نے ہندو مسلم فسادات کو روکنے کی آخری حد تک کوشش کی۔ گاندھی جی تو دہلی میں فسادات کو رکوانے کے لیئے، مسلمانوں کی جائیدادیں اور عبادت گاہیں واگزار کروانے اور خزانے میں پاکستان کے ترکہ کی ادائیگی کے لیے مرن برت پہ بیٹھے اور اس سے پہلے کہ وہ یہی عمل پنجاب میں دہراتے اور پاکستان آتے وہ ایک ھندو راشٹرہ کے بلوائہ کے ہاتھوں شہید کردیئے گئے۔پھر اسی قائد اعظم (جو ھندو مسلم بھائی چارے کے سفیر کہلاتے کہلاتے ”دوقومی نظریہ“ کے واحد سپوکس مین بن کر مسلم اکثریتی ریاست کے خالق بنے) کی تان ٹوٹی بھی تو کراچی میں قانون ساز اسمبلی کے 11 اگست کے افتتاحی اجلاس میں انکی سیکولر تقریر کی صورت جس میں ”دوقومی نظریہ“ پہ اصرار کی بجائے اُنہوں نے مذھب کو ریاست اور سیاست سے جدا کرنے کا ببانگِ دُھل اعلان کردیا۔ قائد اعظم نے کہا: ”آپ آزاد ہیں۔ آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے۔ آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب ذات یا نسل سے ہو۔ ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں“۔ اور اقبال ہی کے بقول:
تو شاخ سےکیوں ھوٹا، میں شاخ سے کیوں ٹوٹا
مصنف محمد وسیم (پاکستان میں سیاسی تنازع) کے مطابق: “1947 میں پاکستان ہندوستان سے نکل گیا۔ لیکن بھارت پاکستان سے نہیں نکلا۔ اسی سے تمام فرق پڑا۔ پاکستان میں پہلے بڑے تنازع کی ابتدا پاکستان کے خود کو ڈی انڈینائز کرنے کی لازمی ضرورت میں دیکھی جا سکتی ہے… یہ نئے”دوسرے” یعنی ضد کے ساتھ الجھے رہنے کا ایک لاشعوری اور فطری عزم بن گیا، بنیادی طور پر سرحد کے اس پار، بلکہ اندر بھی (یعنی مذہبی تفرقے کو برقرار رکھتے ہوئے) … (بعد ازاں) مذہب کے بطور قومی شناخت کے نشان اور تشکیل دینے والے عامل کے طور پر پاکستان میں پہلے اور ہندوستان میں ایک یا دو نسل بعد فروغ پایا ہے”۔ لیکن عجب ماجرا ہے کہ پاکستان میں اکثریتی مسلم ریاست یا اسلامی ریاست (جو قرارداد لاہور اور قائد آعظم کی 11 اگست 1947 کی تاریخی اثاثی تقریر کی نفی ہے) کا قیام اور اب بھارت میں ھندتوا پریوار کی ھندو راشٹرا کے قیام کی جانب پیش رفت کو ہمارے معذرت خواہ نظریہ دان ”دو قومی نظریہ“ کی توثیق قرار دیتے ہیں۔ جو بدقسمتی سے درحقیقت برصغیر کی مذہبی تقسیم کے سلسلے کا عبرتناک انجام ہے۔
رنبیر سمدر (“تعارف- ریاستوں اور ذہنوں کی تشکیل نوکرتی تقسیم “) پوچھتےہیں، تو کیا تقسیم ایک “ترک تعلق ” ، ایک “رشتہ کا ٹوٹنا” تھی، کہ جواہر لال نہرو نے سوچا کہ “تقسیم کے منصوبے نے ایک راستہ پیش کیا اور ہم نے اسےاختیارکر لیا”۔ لیکن، سنجے چترویدی (“جیو پولیٹکس کی زیادتی: برٹش انڈیا کی تقسیم”) سوال کرتے ہیں: “کیا مذھبی تقسیم” یا پارٹیشن تنازع کا حل ہے یا خود تنازع کی (مستقل) افزائش کی بنیاد (برقرار رکھتی ہے)“۔ اور بدقسمتی سے 1947 میں کیبنٹ مشن پلان کے نیم وفاقی اور علاقائی خودمختار اکائیوں یا وفاقوں کے شاندار عملی و جمہوری پلان سے انکار برصغیر کے لیئے مستقل وبالجان بن کر موجود اور آئندہ نسلوں کے لیئے طوق بن کے رہ گیا ہے جس سے خلاصی کا دور دور تک کوہ امکان نظر نہیں آتا۔
بھارت میں، تقسیم کو ہندوستانی تہذیب کی “عظیم تقسیم” کے طور پر دیکھا گیا جس پر رومیلا تھاپر جیسے ممتاز مورخین نے ایک واحد قوم یا آریائی “نسل” یا تہذیب (“ابتدائی ہندوستان”) کے وجود پر سوالیہ نشان لگادیا ۔ ایک خونیں تقسیم کے باوجود، جس میں کانگریس پارٹی کی قیادت لیبنٹ مشن پلان کے ذریعے پیش کردہ ڈھیلی ڈھالی وفاقی سکیم کو مسترد کرتے ہوئے شامل ہوئی، “دو قومی نظریہ” کا “خطرہ” متعلقہ اکثریتی فرقہ واریت کے عروج کے ساتھ برصغیر کے تینوں (سابقہ) حصوں کو پریشان رکھے ہوئےہے۔ ایک “فوجی ریاست” کی طرف پاکستان کے ارتقاکو ، جس کی بنیادبھارت کی طرف سے “ابدی دشمن کے خطرے” پر تھی، مختلف آزاد سکالرز پاکستان کا ایک “زیادہ ترقی یافتہ” ڈھانچہ (حمزہ علوی) اور فولادی ڈھانچا(سووئیت سکالرز) قرار دیتے ہیں۔ پاک بھارت کشیدگی کو بھارت کے پاکستان کی تخلیق اور بقا کو رد کرنے والے نقطہ نظر اور جنوبی ایشیا میں بھارت کی علاقائی بالدستی بارے نہرو کے مبینہ منرو نظریے پر مسلسل اصرار سے بھی تقویت ملی۔ اگر ہندوستان کو امریکا کے ساتھ پاکستان کے اتحاد سے خطرہ محسوس ہوا تو پاکستان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا اور اس نے اپنی بقا کے لیے جوابی تزویراتی صف بندی کی کوشش کی۔یہ نہ ختم ہونے والا سلسلہ اب تک جاری ہے ۔
آئندہ انتخابات میں نریندر مودی کی تیسری بار متوقع بھاری اکثریت سے کامیابی کے بعد اگر بھارت آئینی طور پر ہندو راشٹرہ بننے کی طرف مراجعت کرے گا، تو پاکستان بھی بطور اکثریتی مسلم ریاست کے اب ایک چھاؤنی کی ریاست کی جانب بڑی زقند لگا چکا ہے جسکے پلے اب 23 مارچ کی قرارداد نہیں بلکہ ایک عظیم الشان پریڈ ہے اور مستقبل قرض داروں کے پاس رہن! واہ ری آزادی، تو کہاں کھو گئی؟
اے باد بیابانی، مجھ کو بھی عنائیت ہو
خاموشی و دل سوزی۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں