250

جمہوری عہد نامہ برائے شفاف انتخابات انگیخت: امتیاز عالم

Spread the love

1968ءکی عوامی تحریک کے نتیجے میں حق بالغ رائے دہی، پارلیمانی جمہوریت اور وفاقیئت کے مطالبات کی منظوری کے باوجود جب پاکستان میں پہلے (اور آخری) آزادانہ انتخابات منعقد ہوئے بھی تو انکا انجام بہت ہی خوفناک ہوا۔ مملکت خداداد نے زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھنے کی بجائے دولخت ہونا قبول کیا۔ 1973ءکے آئین کی متفقہ منظوری کے بعد لگا تھا کہ شاید پاکستان جمہوریت کی پٹڑی پہ چڑھ جائے، لیکن مملکت کے ناخداﺅں کو یہ سفر قبول نہ تھا اور آئین کے مصنف اور پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو ہی سولی پہ لٹکا دیا گیا۔ طویل آمرانہ ادوار اور انکے بیچ نحیف منتخب حکومتوں کے چھوٹے چھوٹے وقفوں کے بعد چارٹر آف ڈیماکریسی کے طفیل 15 برس منتخب حکومتوں اور اسمبلیوں کا تسلسل تو چلا، لیکن ووٹ اور پارلیمنٹ کی عزت گنوا کر۔ اب یوں لگتا ہے کہ ایک آدھ کے سوا سبھی ووٹ کو عزت بخشنے کے جمہوری فریقے سے تائب ہوچکے ہیں۔ ہائبرڈ سیاسی ڈھانچے کے ناکام تجربے سے شرمسار ہوکر مقتدرہ نے سیاست سے توبہ تو کی تھی، لیکن گناہ بے لزت کی عادت ایسی پڑی ہے کہ چھوٹے نہیں چھٹتی۔ دریں اثنا سول سوسائٹی کرے تو کیا کرے؟ ایسے میں شہری برائے جمہوریت کے شرکا نے سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں سے رجوع کا فیصلہ کیا۔ اس مشاورتی سلسلے میں طے پایا کہ کیوں نہ سیاسی جماعتیں رضاکارانہ طور پر ”جمہوری سیاست کے عہد نامہ برائے آزادانہ و منصفانہ انتخابات“ پر باہمی اتفاق رائے پیدا کریں اور اس عہد نامہ کی پاسداری کی توثیق کریں۔ اس عہد نامے کے دو حصے ہیں۔ اول: جمہوری و انتخابی عمل سے متعلق تشویش۔ دوم: انتخابی ضابطہ اخلاق۔
اول: سیاسی جماعتیں انتخابات کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات کی نشاندہی کریں جن میں درج ذیل بدعتوں سے اجتناب کیا جائے اور انکی مخالفت کی جائے۔ (۱) انتخابی عمل سے آمرانہ مداخلت، ”سیاسی انجینئرنگ“، دھاندلی اور ناجائز طریقوں کی ممانعت ہو۔ (۲) صحت مند انتخابی بیانیوں کی بجائے گالی گلوچ، الزام تراشی اور کیچڑ اُچھالنے سے پرہیز کیا جائے۔ (۳) انتخابی عمل میں ریاستی اداروں کی ایسی بے جا مداخلت جس سے انتخابی عمل کی شفافیت متاثر ہوتی ہو اور انتخابات کے نتائج کو کسی ایک جماعت کے خلاف اور دوسری جماعت کے حق میں بدلے جانے کا سدباب ہو۔ (۴) انتخابات میں پیسے، برادری، نسلیاتی و فرقہ وارانہ تعصبات کے استعمال پہ بندش ہو۔ ایسے تمام غیر منصفانہ طریقوں کے استعمال کی روک تھام ہو جو انتخابی مہم اور انتخابی نتائج پہ منفی طور پر اثر انداز ہوتے ہیں جیسے ووٹ کے عمل میں دھاندلی اور انتخابی نتائج میں گڑ بڑ کرنے کی تمام تر کوششوں کو روکنے کا بندوبست ہو۔ (۵) عورتوں، اقلیتوں، پچھڑے ہوئے طبقوں اور ممنوعہ علاقوں کے لوگوں کو حق رائے دہی سے روکنے کی سختی سے ممانعت۔ (۶) عوامی مینڈیٹس کو قبول نہ کرنے کی روایت اور پارلیمنٹ کی عدم تکریم کے رجحانات کی حوصلہ شکنی۔ (۷) اختلافات رائے کو برداشت نہ کرنے اور حذب اقتدار اور حزب اختلاف میں غیر پارلیمانی محاذ آرائی سے اجتناب۔ (۸) مخالفین کو دیوار سے لگانے اور انکے خلاف سیاسی انتقام کے رجحانات کا سدباب اور عوام کے منتخب نمائندوں کو پارلیمانی شرکت سے محروم کرنے سے اجتناب۔
دوم: تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل ہے کہ وہ مندرجہ ذیل ضابطہ جمہوری سیاست پر عمل کرنے کا عہد کریں۔ (۱) انسانی، شہری اور معاشی حقوق کا تحفظ، عورتوں اور اقلیتوں کے مساوی حقوق کی حمایت جن کی تاکید اقوام متحدہ کے اعلان ناموں، ضوابط اور 1973 کے آئین میں کی گئی ہے۔ (۲) 1973 کے آئین کی بالادستی، عوام کےا قتدار اعلیٰ جسکی نمائندہ پارلیمنٹ ہے کا احترام، معاون وفاق جیسا کہ 18 ویں ترمیم کا تقاضہ ہے کا دفاع اور اقتدار و اختیار کی مقامی سطح پہ منتقلی۔ (۳) بلا کسی امتیاز کے تمام شہریوں کے مساوی حقوق کا تحفظ، پارلیمنٹ کا مقتدر اعلیٰ کے طور پر احترام اور اختیارات کی آئینی تقسیم کے نظریہ کے تحت تمام اداروں کی اپنی حدود میں رہ کر آئینی احکامات کی پابندی۔ (۴) آزادی اظہار، میڈیا کی آزادی اور اختلاف رائے کا احترام اور جسے گالی گلوچ اور نفرت انگیزی سے مجروح نہ کیا جائے۔ (۵) عوام کے حق رائے دہی کا احترام جو پاکستان کے مقدر اور قومی مفادات کے اصل محافظ ہیں۔ سب سے اہم یہ کہ آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات جس میں ہر جماعت کو مساوی مواقع اور ہموار میدان میسر ہو اور کسی بھی جماعت کو سیاسی عمل سے خارج کرنے سے گریز کیا جائے۔ صاف و شفاف انتخابی عمل ہی مقننہ کی اخلاقی حیثیت اور نمائندگی کے نظام کے تحت جمہوری حکمرانی کو یقینی بناتا ہے۔ (۶) سیاسی و انتخابی عمل میں کسی بھی ریاستی ادارے یا ایجنسی کی عدم مداخلت۔ نیز پیسے اور ناجائز طریقوں سے انتخابی عمل کو مشکوک بنانے سے اجتناب برتا جائے۔ (۷) سیاست میں مہذبانہ، جمہوری، رواداری، طرز عمل اور معیاری مکالمے کا فروغ۔ (۸) انتخابی نتائج پہ کسی طور پر اثر انداز ہونے کی غیر جمہوری کوششوں کا تدراک۔ (۹) انتخابی عمل میں پرامن، مہذب اور قانونی و اخلاقی طور طریقوں کا فروغ تاکہ جمہوری نظام مستحکم ہو۔ (۰۱) پارٹیوں کو اپنے منشور اور پروگرام عوامی فلاح، مفاد عامہ خاص طور پر محنت کش عوام کی بھلائی اور غربت و ناداری اور عدم مساوات کے خاتمے پر مرکوز کرتے ہوئے عوام کی خوشحالی اور ترقی اور نوجوانوں کے مستقبل کو سنوارنے کیلئے انسانی ذرائع کی ترقی پہ زور دینا ہوگا۔ (۱۱) سیاسی مخالفین کو بالجبر میدان سے نکالنے اور انتقام کا نشانہ بنانے سے اجتناب کیا جائے۔ (۲۱) ملک، خطے اور دنیا میں امن تعاون اور بھائی چارے کا فروغ۔
شہری برائے جمہوریت کے مجوزہ اعلان نامے کوپاکستان کی بڑی جماعتوں کے زعما، وکلا اور صحافیوں کی تنظیموں کے عہدیداران اور سول سوسائٹی کے کارکنان نے اپنے دستخطوں سے جاری کردیا ہے اور تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی گئی ہے کہ اسکی باقاعدہ توثیق کا اعلان کریں۔ اگر ایسا ہوجائے تو جمہوری و انتخابی عمل کو اجتماعی کاوشوں سے نکھارا جاسکتاہے۔ یہ تبھی ممکن ہے کہ سب ووٹ کو عزت دو کے اصول پہ متفق ہوجائیں اور اقتدار اعلیٰ کے حقیقی معنوں میں عوام کو منتقل کیے جانے کیلئے اپنی اپنی غرض سے ماورا ہونے کا عہد کریں۔ کیا ایسا ہوسکے گا؟ یا سیاست یونہی دھکے کھاتی رہے گی؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں