289

مسئلہ فلسطین: پندار جنوں، حوصلہ راہ عدم انگیخت: امتیاز علام

Spread the love

یہودیوں کے مقدس یوم کُپریہ پچاس برس بعد (1973 کی عرب اسرائیل چوتھی جنگ) غزہ کی پٹی سے دو تین میل دور ایک نخلستان میں نووا جشن منایا جارہا تھا، اسرائیلی اور غیر ملکی شہری ناچ گانے میں مست تھے کہ حماس کے قسام بریگیڈ نے الاقصیٰ طوفان بپا کردیا۔ 260 لوگ لقمہ اجل بنے۔ تقریباً 1500 فلسطینی فدائین نے مقبوضہ علاقے کی ناقابل شکست رکاوٹوں کو توڑ کر پورے جنوبی اسرائیل کے سرحدی علاقوں میں داخل ہوکر 1300 کے قریب بچوں، بوڑھوں، جوانوں اور فوجیوں کو تہہ تیغ کردیا۔ پچاس برس بعد یہ دوسرا حیران کن حملہ تھا جس نے اسرائیل کے جدید ترین سیکیورٹی حصار کو توڑ ڈالا۔ منقسم اسرائیلی حکومت اور سیاسی خلفشار کے ماحول میں نیتن یاہو کی مخلوط حکومت کچھ ایسی الجھی کہ سلامتی کو درپیش خطرات سے اوجھل ہوگئی جسکا فائدہ گوریلاز کے سرپرائز اٹیک کو ہوا اور اسرائیل کے قومی دفاع کا تصور پاش پاش ہوگیا۔ غزہ 40×20 میل کی ساحلی پٹی کی کھلی قید میں دہائیوں سے محبوس فلسطینیوں کی دلخراش بے بسی، اوسلو کے فلسطینی و اسرائیلی امن پراسس کی ناکامی جس کے تحت مئی 1999 تک اسرائیل کے پہلو بہ پہلو فلسطینی ریاست نے (1967 میں فتح کیے گئے علاقوں سے اسرائیلی انخلا پر) وجود میں آنا تھا کی ناکامی، ابراہیمی معاہدات کے تحت پہ در پہ عرب ملکوں کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی اور اسرائیل و سعودی عرب کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی کامیابی کے امکانات اور فلسطینیوں کی اپنے حق خود اختیاری، مقبوضہ علاقوں کی بازیابی اور فلسطینی ریاست کے قیام کے عالمی وعدوں کی بے وفائی ایسے مقام پہ پہنچ چکی تھی کہ کچھ بھی ردعمل آسکتا تھا۔ حماس جسکی غزہ میں توسیع پر اسلامی جہاد کو ٹھکانے لگاتے ہوئے اسرائیل نے آنکھیں بند کررکھی تھیں اور وہ تیزی سے مقبول ہوتی چلی گئی تھی اور غزہ پہ حکمران تھی کی مقبولیت میں تیزی سے کمی آرہی تھی نے ایک تاریخی کھڑاک کا فیصلہ کیا۔ یہ وہ قت تھا جب فلسطینی اتھارٹی، فلسطینی محاز آزادی اور صدر محمود عباس کی حکومت (جسے حماس نے کمزور کردیا تھا) پھر سے عوامی حمایت حاصل کرنے جارہی تھی۔ کمال کی منصوبہ بندی سے اور اسرائیلی انٹیلی جنس سروسز کو دھوکہ دیتے ہوئے، حماس نے وہ حربی حربہ آزمایا کہ پورا اسرائیلی اور مغربی دنیا کو حیرت زدہ کردیا۔ لیکن یہ مظلوموں کی اسرائیلی شہریوں کے خلاف ایسی جارحیت تھی جس سے پیدائشی جارح اسرائیل کو مشتعل کرنے کیلئے بے مثال تھی۔ لیکن اس بار مشکل یہ آن پڑی کہ حماس کے جنگجو ڈیڑھ سو کے قریب اسرائیلی شہریوں اور فوجیوں کو یرغمال بنا کر غزہ کی پناہ گاہوں میں لاکر مغوی بنانے میں کامیاب ہوگئے۔
اس پر مغربی ردعمل آنا لازمی تھا اور اسرائیل نواز مغربی میڈیا نے اسرائیل کی مظلومیت اور حماس کی دہشت گردی کو خوب اچھالا خاص طور پر سویلین کی اموات کو۔ امریکہ اور یورپین یونین کھل کھلا کر اسرائیل کی پشت پر کھڑے ہوگئے اور اسرائیل کے حق دفاع (بشمول حق جارحیت؟) کا ایسا پرچار کیا گیا کہ اسرائیل نے غزہ کی چھوٹی سے پٹی میں 23 لاکھ فلسطینی شہریوں پہ چھ روز میں اب تک چھ ہزار سے زائد بم برسادئیے ہیں جس میں تادم تحریر 1900 فلسطینی جن میں 614 بچے شہید اور 7696 زخمی ہوچکے ہیں۔ یہ ایسی جوابی بربریت ہے جو فلسطینی اسرائیلیوں کی مسلسل بربریت کے ہاتھوں کئی بار دیکھ چکے ہیں۔ ابھی ابھی چوبیس گھنٹے کا الٹی میٹم دیا گیا ہے کہ تمام فلسطینی شمالی غزہ خالی کر کے جنوبی غزہ کوچ کرجائیں ورنہ انکی موت کا اسرائیل ذمہ دار نہ ہوگا۔ انخلا کی یہ دھمکی 370 ہزار اسرائیلی فوج کے غزہ میں زمینی حملے کو ہموار کرنے کیلئے دی گئی ہے جو کسی بھی وقت ہوسکتا ہے۔ عالمی رائے عامہ نے پہلے حماس کو جارح قرار دیا تھا اور سویلین ناجائز اموات کی دہائی دی تھی تو اب اخلاقی مشکل آن پڑی ہے کہ غزہ میں سویلین آبادی کی نسل کشی کو عالمی انسانی حقوق اور جنگ کے قواعد کے مطابق کیسے روکا جائے۔ اقوام متحدہ جسے مسلم دنیا میں بہت مطعون کیا جاتا ہے کہ سیکرٹری جنرل نے زمینی حملے اور فلسطینی انخلا کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ہے اور انسانی المیہ کو روکنے کی اپیل کی ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ اسرائیل کی جنگی کابینہ کیا فیصلہ کرتی ہے جبکہ اسرائیلی رائے عامہ کا زیادہ زور اسرائیلی مغویوں کی بحفاظت بازیابی پہ ہے۔ اگر زمینی حملہ ہوا تو پھر ان بیچارے مغویوں کی جان خطرے میں پڑسکتی ہے۔ سوال یہاں یہ اُٹھتا ہے کہ شدت پسند حماس نے جب یہ حملہ پلان کیا، اسکے پاس غزہ کی شہری آبادی کے تحفظ کا کیا منصوبہ تھا؟ اس دوران امریکیوں، عربوں اور اسرائیلیوں میں مغویوں کی رہائی سمیت جنگ بندی اور مسئلے کے سیاسی حل کی کوئی بھولی بسری راہ نکالنے کی کوششیں شروع ہوگئی ہیں۔ کم از کم حماس نے 23 لاکھ غزا کے شہریوں کی زندگی داﺅ پر لگا کر مسئلہ فلسطین کو عالمی ایجنڈے پہ لاکھڑا کیا ہے لیکن اس جنگ کے علاقائی پھیلاﺅ کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔ اگر اوسلو کے معاہدوں پہ عمل ہوجاتا تو آج اس دہائیوں سے جاری فلسطینیوں کے قتل عام کا سلسلہ بند ہوجاتا اور اسرائیلی و عرب و فلسطینی ساتھ ساتھ زندہ رہو اور زندہ رہنے دو کے بھلائے گئے سنہری اصول پہ کاربند ہوچکے ہوتے۔ سارے الہامی ادیان کا سلسلہ حضرت ابراہیم سے ہے، تورات، انجیل مقدس اور قرآن مجید الہامی سلسلے ہی کی کڑیاں ہیں اور دلچسپ بات ہے کہ ان کا علاقائی ماخذ بھی تقریباً ایک ہی علاقہ ہے۔ نویں صدی قبل مسیح میں فرعونوں کی موت کے بعد مصری بطن سے حضرت موسیٰ کے مطابق اللہ کا پہلا بچہ اسرائیلی پیدا ہوا ہے۔ حضرت اسحاق اور ان کے فرزند حضرت یعقوب (قرآن 19:49.50) انکے اولین نبیوں میں سے ہیں۔ تاریخی طور پر اسرائیلی اپنے مقدس وطن سے بار بار اجاڑے جاتے رہے کبھی روم، کبھی پرشیا، کبھی بزنطینیوں، کبھی بابل، کبھی عربوں اور کبھی عثمانیوں کے ہاتھوں وہ دربدر ہوتے رہے۔ تاآنکہ نازیوں کی سامئیت دشمن (Anti-Semitism) فسطائیت کے ہاتھوں دسیوں لاکھ یہودیوں کا ہولوکاسٹ (قتل عام) ہوا اور کہیں جاکر 15 مئی 1948 کو اسرائیل کی ریاست کا قیام ہوا۔ 1948-1967 کے درمیان اسرائیلی نوآبادیاتی آباد کار ریاست کی توسیع پسندی کے نتیجے میں اردن کے مغربی کنارے، غزہ، مصر کی وادی سینا اور شام کی گولان کی پہاڑیوں کے علاقے اسرائیل کے قبضے میں آگئے۔ بجائے اس کے کہ ان مقبوضہ علاقوں پر فلسطینی ریاست بنتی، اسرائیلی آبادکاروں نے وہاں اپنی بستیاں بسانا شروع کردیں اور خود یروشلم جہاں تین مذاہب کے مقدس مقامات ہیں عرب اسرائیل تنازعہ کی بڑی وجہ بن گیا جو آج تک جاری ہے۔ فلسطینیوں کی آزادی کی طویل جدوجہد میں PLO اسکی نمائندہ تنظیم بن کر ابھری اور فلسطینی اتھارٹی کا قیام عمل میں آیا، لیکن صدر یاسر عرفات کے انتقال کے بعد فلسطینیوں کو سیکولر اور مذہبی بنیادوں پر تقسیم کیا جاتا رہا۔ حماس بھی اخوان المسلمین کے زیر اثر ایک جنگجو تنظیم کے طور پر سامنے آئی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ طوفان اقصیٰ کے بعد غزہ اسرائیلیوں کے ہاتھوں زمین بوس ہونا اور فلسطینی صحرائے سینا میں غرق کیے جاتے ہیں یا پھر دو ریاستوں کے حل کی جانب کوئی پیشرفت ہوتی ہے؟
اب قاتل جاں چارہ گرِکلفتِ غم ہے
گلزار ارم پر توِ صحرائے عدم ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں