285

ھاتھ ہوا کہ ھاتھ پیر پھول گئے انگیخت امتیاز عالم

Spread the love

”ہاتھ ہو گیا“ کی دُہائی ہر طرف سے سنائی پڑ رہی ہے۔ جانے کس نے کس کس کے ساتھ کیا ہاتھ کیا یا پھر کس کے ساتھ ہاتھ ہو گیا۔ سارے سوشل میڈیا اور سیاسی فضا میں بس یہی محاورہ گونج رہا ہے۔ لگتا پر یہ ہے کہ ہر کسی نے ہرکسی کے ساتھ ہاتھ کیا، یوں سب کے ساتھ ہاتھ ہو گیا۔ کوئی پہلے سے ہاتھ مل رہا تھا، کوئی اب ہاتھ مل رہا ہے اورمستفیضین میں سب سے مستفیض ن لیگ والے بھی بالآخر ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔ یوں کہیے کہ سارے سیاسی و ریاستی کرداروں کے ہاتھ پاوں پھول کے رہ گئے ہیں۔ اس بوکھلاہٹ میں جانے بی بی جمہوریت کی سیٹی کہیں گم ہو کے رہ گئی ہے،جس کا کہ کوئی پرسانِ حال نہیں۔ ایسے میں بھارت کے چندریان-3 کی چاند کے جنوبی تاریک قطب میں کامیاب لینڈنگ پر جہاں دُنیا بھر میں تعریف کے ڈونگرے برسائے جا رہے تھے تو پوری قوم کی سانسیں بٹگرام میں الائی کے مقام پر اٹکی ہوئی چیئرلفٹ میں پھنسے آٹھ بچوں کی موت و زندگی کی کشمکش سے پُھولی ہوئی تھیں۔ جہاں ہیلی کاپٹرز کام نہ آئے، وہاں نوجوانوں کی جرات اور مقامی حرفتی نسخوں نے کر دکھایا۔ ہر دو واقعات برصغیر کے ایک ہی وقت پر آزاد ہونے والے دو ملکوں کے حالات کی غمازی کرتے ہیں۔ ہمیں ہر جدید ہتھیار و اوزار اور مانگے تانگے کی دست نگر معیشت سرد جنگ کےطفیل خیرات میں ملی تو بھارت میں خودانحصاری، میڈ اِن انڈیا اور اعلیٰ تعلیم و تربیت یافتہ مین پاور، اینٹرپرینیرز، پڑھی لکھی مڈل کلاس اور سپیس ایجنسی کے سائنسدانوں نے کر دکھایا۔ ذرا اس کا پاکستان کے سپارکو کے تحت جس کا کنٹرول اعلی فوجی افسروں کے مضبوط ہاتھوں میں ہے، کی ناکامیوں کا موازنہ بھارت کی خلائی ایجنسی سے کریں جس کی کامیابیوں کے پیچھے بھارت کے سائنسدان اور پنڈت جواہر لال نہرو سے نریندرا مودی تک تمام وزرائے اعظم کی کاوشیں شامل ہیں۔ جبکہ ہم نے نیوکلیئر پروگرام کے بانی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی اور ایٹمی دھماکہ کرنےوالے وزیراعظم نواز شریف کو عمر قید دے دی۔ بھارت میں ایٹمی سائنسدان عبدالکلام ملک کا صدر بنا تو پاکستان میں اس کا فزکس میں نوبل انعام یافتہ سائنسدان عبدالسلام راندہ درگاہ ٹھہرا کہ وہ احمدی تھا۔ بھارت کا اب مقابلہ چین اور امریکہ سے ہے، پاکستان کہیں کا کہیں پیچھے رہ گیا۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ پاکستان کے 24 کروڑ عوام پیدائشی طور پرصلاحیتوں میں پیچھے ہیں۔ نہیں! المیہ یہ ہے کہ دسیوں کروڑ لوگوں کو بقول حبیب جالب زندگی کی نعمتوں سے بیگانہ کردیا گیا ہے (10 کروڑ لوگ زندگی سے بیگانے) اور مٹھی بھر اُمرا اور طاقتور ادارے اور ان کی لے پالک بورژوا جماعتیں مفت خور اور نکمے ہیں۔
تو بات شروع ہوئی تھی ”ہاتھ ہو گیا“ سے تو اس میں کسی کو کیا دوش دینا۔ سیاسی جماعتوں اور ریاست کے معزز اداروں کو اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکنا ہوگا اور جس کا جتنا دوش ہے وہ سرِعام قبول کرنا ہوگا، ورنہ قلب ماہیت ممکن نہیں۔ ایک دوسرے کو مطعون کرنے سے کیا حاصل جب سبھی اس قمار خانے میں ننگے ہیں۔ بھلا ملک کے یہ حالات ہیں کہ بحران پہ بحران تھونپا جائے۔ کسی بھی معیشت دان سے پوچھ لیجیے بھلے وہ کیسا ہی تابعدار ہو کہ ملکی معیشت کا جوحال ہے وہ آئندہ ایک دہائی میں بھی سنبھلنے والا نہیں۔ جب کہ عوام کا انبوہِ کثیر تنگ آمد بجنگ آمد پہ مجبور ہوا جاتاہے۔ مجھے جو بل اپریل میں ملا تھا، اُس کے مقابلے میں جو اس ماہ ملا ہے وہ تین گنا سے زیادہ ہے اور اس میں نصف درجن ڈیوٹیاں اور ٹیکس ہیں جو کُل بل کا تقریباً ایک تہائی ہیں۔ یہی حال نہایت کم آمدنی والے گھرانوں کا ہے جن کی آمدنی بھی گزر بسر کے اخراجات سے کہیں کم ہے۔ نتیجتاً بجلی کے بل موت کا پروانہ بن گئے ہیں۔ لیکن پھر بھی سرکلر قرضہ ختم ہونےکو نہیں، نہ ہو سکے گا۔ شہروں اور قصبوں میں ”بجلی کا بل دیں یا روٹی کھائیں“ کے نعرے پہ مظاہرے شروع ہو چکے ہیں، دیکھیے عوامی لاوا کب پھٹتا ہے۔ قوم کو یہ بھی تو بتایا جائے کہ کس کس کو بجلی مفت ملتی ہے اور کتنے بند کارخانوں کو کیپسٹی ادائیگیاں کی جا رہی ہیں اور ان کے ساتھ یہ معاہدے جس شریف سپیڈ کے ساتھ کیے گئے تھے، اُن سے بھی توکوئی حساب کتاب لیا جائے۔
معیشت سنبھل نہیں رہی اور نہ موجودہ سنگین معاشی بحران کا حل آئی ایم ایف کے کِرم خوردہ نسخوں کے پاس ہے، اور کسی انقلابی حل کے لیے اُمرا اور اُن کے دم چھلے معیشت دان تیار نہیں ہیں۔ جب آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے۔
و کنڈا کھولے تو کون؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں