300

فرقہ پرستی کا عفریت ، ہائبرڈ نظام سوئم کی تیاری انگیخت: امتیاز عالم

Spread the love

معصوم گھریلو ملازمہ رضوانہ کی داد رسی کریں یا پھر رانی پور کی فاطمہ کو روئیں۔ ایسی ہزاروں ظلم کی داستانوں کی چیخیں بڑی حویلیوں کی سنگلاخ دیواروں اور جدید اپر کلاس ہاﺅسنگ سوسائٹیز کے آہنی دروازوں کے پیچھے کب سے دبی ہیں اور ہم یہ سب دیکھتے ہیں اور اسے معمول سمجھ کر اپنی قبولیت کی داد دیتے ہیں۔ یہ قدیم زمانوں کی رئیسی غلامی ہے یا پھر سرمایہ دارانہ دور کی سفاک طفلانہ جبری مشقت۔ یا یوں کہیے کہ غلام داری نظام کی باقیات۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک مذہبی و نسلیاتی امتیازی تقسیم کے ہاتھوں اقلیتوں کا قتل عام (Genocide) ہے کے تواتر سے جاری ہے۔ جڑانوالہ میں مظلوم اقلیتی مسیحی برادری، اس کے گھروں، گرجوں اور زندگیوں کے ساتھ جو بلوائی انصاف کیا گیا، وہ اس برس کا پہلا واقع نہیں ہے ایسے 17 واقعات پہلے ہی ہوچکے ہیں اور سالہا سال سے جاری ہیں۔ یہ بھی ایک معمول ہے۔ اس پر اکثریتی فرقوں کی ندامت بھی جواز گناہ سے لبریز ہے۔ بیانیہ کچھ اس طرح ہے کہ مسلمان قرآن پاک اور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفے ﷺ کی نعوذ باللہ کسی طرح کی بے توقیری برداشت نہیں کرسکتے اورمبینہ ملزموں کو جہنم رسید کیے بنا حمیئت اسلامی کے تقاضوں کو پورا نہیں کرسکتے۔ اور چونکہ توہین کے کسی ملزم کو ابھی تک سزا نہیں ہوسکی تو وہ قانون کو ہاتھ میں لینے پر مجبو رہیں۔ کچھ اسی طرح کا دعویٰ بھارت میں ہندو انتہا پسند فرقہ پرستوں کا مسلمانوں سمیت دیگر مذہبی اقلیتوں کے خلاف ہے جس کی ہم اپنے گریبان میں جھانکے بغیر مذمت کرتے ہیں۔ مغرب میں قرآن کی بے حرمتی کو تو ہم اسلام فوبیہ سے تعبیر کرتے ہیں اور اس پر احتجاج کرتے ہیں، لیکن جڑانوالہ اور اس سے پہلے گوجرہ، شانتی نگر، یوحنا آباد اور جانے کہاں کہاں سینکڑوں گرجے گرائے اور ہزاروں بائبل جلائی گئیں، اسکے پیچھے بہانہ ایک ہی تھا کہ کوئی غیر مسلم کسی طرح کی توہین کا مرتکب ہوا تھا۔ لیکن آج تک کوئی ایک توہین کا کیس کیوں ثابت نہ ہوسکا اور اسکے پیچھے اصل محرکات کیا تھے، اس پر غور کرنے کی بجائے یہ اشتعال دلایا جاتا ہے کہ پھر مسلمان قانون کو ہاتھ میں کیوں نہ لیں۔ یہ سیدھا سادہ فسطائی نسخہ ہے جسکی نظریاتی اشتعال انگیزی مسلمانوں کے قلب و ذہن میں سمودی گئی ہے اور جسے ماہرین نفسیات ماس سائیکالوجی آف فاشزم بھی کہتے ہیں۔ ایک مذہب کے نام پہ بنی اکثریتی مسلم ریاست کا مدعا بھی یہی ہے۔ اور جس کی جڑیں مذہبی بنیاد پر برصغیر کی تقسیم میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ انگریزوں سے آزادی ملنے پر ہندو مسلم سکھ فسادات ہوئے تھے جن میں لاکھوں لوگ مارے گئے تھے، جس کا تسلسل آج بھی برصغیر کے دونوں ملکوں میں دیکھا جاسکتا ہے۔ مذہبی اقلیتوں کے خلاف بھارت اور پاکستان میں اکثریتی مذہبی تنگ نظروں کے ہاتھوں جو زمین تنگ کی جارہی ہے، اسکا مشاہدہ ہم ہر روز کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی مذمت کرکے اپنی ندامت بھول جاتے ہیں۔ اقلیتی سوال پر برصغیر تقسیم ہوگیا تھا اور وہ مذہبی تقسیم ابھی تک جاری ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مذہبی توہین کے قوانین میں جنرل ضیا الحق کی لائی تبدیلیوں سے پہلے دہائیوں میں توہین کا کوئی مقدمہ سامنے آتا تھا۔ اب ہزاروں ہیں۔ گویا یہ قانون توہین میں اضافے کا باعث بنا ہے یا پھر ذاتی جھگڑوں اور زر زمین کے معاملات طے کرنے کیلئے استعمال ہوا ہے۔ اور آج تک کسی جھوٹے الزام لگانے والے کو سزا ہوئی نہ مذہبی بلوائیوں کو قرار واقعی سزائیں ہوئیں یا پھر برقرار نہ رہ سکیں۔ جب تک سماج میں آپ فرقہ پرستی کا زہر گھولنے والوں اور فرقہ پرست نظریات کا پرچار کرنے والوں کا کڑا احتساب نہیں کریں گے۔ جڑانوالہ کی طرز کے انسان دشمن کھیل کھیلے جاتے رہیں گے۔ پاکستان کے سابق چیف جسٹس جیلانی صاحب نے اقلیتوں کے معاملات پہ ایک بہت شاندار تاریخی فیصلہ دیا تھا اور اس کے تحت ایک کمشن بھی قائم کیا گیا تھا، لیکن اس کا سکہ ایک مذہبی ریاست میں نہ چل سکا۔ خاص طور پر جب مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی قومی سلامتی کی ایک اہم کڑی بن جائے تو معاشرہ فرقہ وارانہ جہنم تو بنتا ہی ہے۔
دریں اثنا سیاسی منظر بدل چکا ہے۔ فرقہ پرستی اور دہشت گردی اپنا الگ رنگ جمارہی ہے، چارٹر آف ڈیماکریسی کے زیر اثر قائم ہونے والی دو حکومتوں کے خلاف منظم مہم چلانے کے بعد جس ہائبرڈ نظام اول کا تجربہ قومی ہیرو عمران خان کی صورت کیا گیا تھا۔ وہ ایک صفحہ کی برکت کے باوجود نہ صرف ناکام ہوا بلکہ گلے پڑگیا ۔ اسکی جگہ شہباز شریف کی قیادت میں ہائبرڈ نظام دوم کا تجربہ مقتدرہ کیلئے بڑی نعمت ثابت ہوا۔ سویلین سپیس بڑھانے کا جو دعویٰ پی ڈی ایم نے کیا تھا، اس کے برعکس اتحادی حکومت نے مقتدرہ کے سامنے نہ صرف ہتھیار ڈال دئیے بلکہ پورے وفاقی و صوبائی نظام کو چھاﺅنی کی دسترس میں دے دیا۔ شہباز شریف نے آنکھ کا تارہ بننے کے لیے جو پاپڑ پیلے، کوئی اور دوسرا قومی رہنما اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔ لیکن جب نگران وزیراعظم کا کرہ پر دہ غیب سے نازل ہوا تو تب پتہ پڑا کہ رعئیتی سیاست کے میدان میں بار برداری کے لائق کوئی اور ہیں۔ اگر نگران وزیراعظم کے انتخاب کا معیار سامنے رکھا جائے تو معلوم پڑے گا کہ حسن نظر کیا ہے۔ آئندہ دنوں اور ہفتوں میں ن لیگ، پیپلزپارٹی، جمعیت علمائے اسلام اور بی این پی کو لگ پتہ جائے گا کہ ایک گماشتہ سویلین حکومت کے شیئرز میں انکا کیا حصہ ہوگا۔ پی ڈی ایم کی جماعتیں تحریک انصاف کے بغض میں اتنی اندھی ہوگئیں کہ اپنی جمہوری بنیاد سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں۔ اب پچھتاوے سے کیا ہووت، تیر کمان سے نکل چکا ہے۔ حقیقی جمہوریت کے حصول، آئینی حکمران اور بروقت منصفانہ انتخابات کے دعووں کو خود اس کے علمبرداروں نے زمین بوس کردیا ہے۔ انہیں صرف یہ چاہیے کہ عمران خان انتخابی میدان سے نکال باہر کیا جائے اور انکے لیے ”لیول پلینگ“ فیلڈ یا بلا مقابلہ میچ کا اہتمام کردیا جائے۔ اسے کہتے ہیں بلے کو چھچھڑوں کے خواب۔ بھلا جو قوتیں 9 مئی کے ملزموں کو کیفر کردار پہنچانے پہ تلی ہیں، وہ اسکا سہرہ پی ڈی ایم اور پیپلزپارٹی کے سر کیوں باندھنے لگیں۔ جمہوری سیاسی متاع لٹانے کے بعد ہوش میں آئے بھی تو دیر ہوچکی ہے۔ نواز شریف چوتھی بار وزیراعظم بننے سے رہے اور زرداری صاحب فرزند ارجمند کو مسند پہ بٹھاتے بٹھاتے رہ گئے۔ ابھی تو یہ بھی معلوم نہیں پڑ رہا کہ انتخابات کب ہوں گے، ہونگے کہ بھی نہیں۔ ن لیگ کی جو منشا انتخابات کو ملتوی کرانے کیلئے تھی، اسے شہباز حکومت کی تازہ مردم شماری کی منظوری کے بعد الیکشن کمشن آف پاکستان نے پوری کردی ہے۔ الیکشن کمشن جو کام آٹھ ہفتوں میں کرسکتا تھا وہ 16 ہفتوں میں کرنے جارہا ہے بھلے 90 روز میں انتخابات کروانے کا اٹل آئینی تقاضہ بھاڑ میں جائے۔ جب تک عمران مخالف جماعتیں پہلے عمران کے احتساب اور پھر انتخاب کی حسرت کا شکار رہیں گی، تب تک انہیں صاف و شفاف انتخابات کی تمنا سے ہاتھ دھونے ہونگے۔ یہاں جو سب سے اہم سوال ہے وہ یہ ہے کہ افواج پاکستان، اقتدار پاکستان میں کتنا حصہ چاہتی ہیں؟ کیا اتنا کافی نہیں جتنا شہباز حکومت نے انہیں پلیٹ میں رکھ کر پیش کردیا ہے اور وہ بھی وفاق اور اسکی اکائیوں کے ہاتھ پیر کاٹ کر۔ اگر یہ قومی سلامتی کیلئے معاشی سلامتی کی فراہمی کرنے کیلئے کافی ہے جو تقریباً مملکت خداداد کے اندازاً 70 فیصد کے برابر تو پھر 30 فیصد کے سویلین حصے پہ سویلین کو کھل کھیلنے پہ کیا تحفظات ہیں؟ اگر اس پر بھی اپنا کوئی بالکا بٹھانا ہے تو آپ کی مرضی ۔ جمہوریت کا قتل تو نام نہاد جمہوریت پسندوں کے ہاتھوں کب کا ہوچکا ہے۔ایسے میں ہم رضوانہ اور فاطمہ کو روئیں اور جڑانوالہ میں مسیحی بستی کی بتاہی پہ خون کے آنسو بہایا کئیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں