140

فریڈم ایٹ مڈ نائٹ انگیخت: امتیاز عالم

Spread the love

آج 14 اگست کو 76 ویں یوم آزادی پ جب یہ کالم تحریر کر رہا ہوں تو ملک کے بیشتر حصوں میں جشن آزادی بڑlے ہی جوش و خروش سے منایا جارہا ہے۔ آج ہی کے دن 50 برس قبل 1973 کے آئین کا نفاذ ہوا تھا۔ لیکن آزادی کے ثمرات ملے، نہ 73 کے آئین والی جمہور یہ پھل پھول پائی۔ پارٹیشن کے نتیجہ میں قائد اعظم محمد علی جناح کو جو پاکستان ملا بھی تو انکے بقول یہ کرم خورہ تھا، کیونکہ ” دو قومی نظریہ کے مطابق بنگال اور پنجاب کی خون آشام فرقہ وارانہ تقسیم سے برطانوی راج سے آزادی کی متحدہ  لہر گہنا گئی تھی۔ قومی آزادی کے متوالوں نے 1857 کی متحدہ جنگ آزادی سے 1946 کی جہازیوں اور محنت کشوں کی بغاوتوں تک جو قربانیاں دیں تھیں وہ 1947 کے فرقہ وارانہ فسادات کے خون کے سمندر میں کہیں ڈوب گئیں۔ جب خون میں لتھڑے پنجاب کا جواہر لال نہرو اور لیاقت علی خان نے دورہ کیا تو دونوں کے اوسان خطا ہو گئے ۔ نہرو نے لیاقت علی خان سے کہا کہ اس پارٹیشن نے ہمیں کس بر بریت سے دو چار کر دیا ہے۔ اور ہم نے ایسا کچھ سوچا بھی نہ تھا جب ہم نے تقسیم پر اتفاق کیا۔ ہم بھائی تھے اور یہ سب خون خرابا کیسے ہو گیا۔ لیاقت علی خان کا جواب تھا ہمارے لوگ پاگل ہو گئے ہیں ۔ اسی طرح کے جذبات کا اظہار قائد اعظم محمد علی جناح اور مہاتما گاندھی نے بھی کیا۔ لیکن قومی آزادی کے متحارب رہنما بھول گئے کہ کیبنٹ مشن پلان کی علاقائی خود مختاری کی سکیم کے پہلے کا تمرس اور بعد ازاں مسلم لیگ کی جانب سے رد کیے جانے اور کابینہ میں شراکتی معاملات پر اختلافات نے سنگین موڑ لے لیا۔ پھر مسلم لیگ کی ڈائر یکٹ ایکشن کی 16 اگست 1946 کی کال کے نتیجہ میں ہزاروں لوگ فرقہ وارانہ فسادات میں مارے گئے۔ صرف کلکتہ میں دو دنوں میں 16000 لوگ مارے گئے تھے۔ اس کے بعد فرقہ وارانہ تقسیم کا جن آپے سے باہر ہو گیا اور دسیوں لاکھ لوگ اس کی بھینٹ چڑھے جبکہ ایک کروڑ سے زائد لوگوں کو اپنے آبائی دیہاتوں اور شہروں سے اجڑ کر پرائے دیسوں کی جانب لگے مہاجر کیمپوں میں پناہ لینا پڑی۔ فرقہ وارانہ تقسیم کا جن ایک بار بوتل سے نکلا تو آج تک بوتل میں واپس نہ جاسکا۔ آج بھی اس کے مظاہر ہندوراشٹرا اور مسلکی و مذہبی افتراق کی صورت پورے برصغیر کو لپیٹ میں لیے ہے۔ اس پر طرہ یہ ہے کہ پاکستان و بھارت ابھی بھی ازلی دشمنی کے زہر میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ پاکستان تو ہندوستان سے علیحد ہ ہوا تھا اور اسے اپنے علیحدہ ہونے کی اپنی شناخت چاہیے تھی اور بھارت سے خطرہ کا کارڈ بھی خوب کھیلا گیا۔ اس کا آسمانی نظر یہ آیا تو مسلم اقلیتی علاقوں کے اشراف اور دانشوروں سے لیکن ریاست کا قیام ہوا بھی تو مسلم اکثریت کی قومی اکائیوں میں۔ جبکہ جس پارٹیشن پہ نہرو نے کہا تھا کہ بس تفرقہ ختم ہو جائے گا، وہ بھارت میں آج بھی جاری ہے جسے ہمارے نظریہ پاکستان والے مفکرین ”دو قومی نظریہ“ کا
تسلسل قرار دے کر خوب بغلیں بجاتے ہیں۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد فاتح برطانیہ معاشی طور پر اتنا بدحال ہو گیا تھا کہ وہ اپنی نو آبادی ہندوستان کا کروڑوں پاؤنڈ کا مقروض ہو چکا تھا اور نو آبادیاتی بندوبست چلانے کی سکت کھو بیٹھا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے ایک ہیرو وزیر اعظم چرچل کی جنگ کے بعد انتخابات میں شکست کے بعد جب لیبر پارٹی کی وزیراعظم اپہلے کی حکومت بنی تو لندن سے اعلان کیا گیا کہ جون 1948 سے پہلے ہندستان پر برطانوی تسلط کو ختم کرتے ہوئے (برٹش کامن ویلتھ کا حصہ بنے کی شرط پر ) ہندوستان کو آزاد کر دیا جائے گا۔ اس کام کیلئے مشرقی بعید میں برطانوی نیوی کے کمانڈر اور کنگ جارج ششم سے کزن لارڈ ماجہ نٹ بیٹن کو
چنا گیا۔
جس ہندوستان کو ماؤنٹ بیٹن کے پیشرو نے ”میڈ ہاؤس” قرار دیا تھا، نئے وائسرائے کیلئے یہ ناممکن مشن سونیا گیا تھا۔ حالات کو بھانپتے ہوئے ماؤنٹ بیٹن اور لیبر گورنمنٹ نے فیصلہ کیا کہ ”آزادی“ کا معاملہ 11 ماہ قبل ہی طے کر دیا جائے۔ یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ پاکستان برطانیہ کی سازش کی پیداوار ہے یا پھر جناح انگریزوں کے ایجنٹ تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ قومی آزادی کے تقریبا تمام بڑے لیڈر برطانیہ سے اعلی تعلیم حاصل کر کے آئے تھے اور سوائے گاندھی کے سبھی مغربی تہذیب و انگریزوں سے قانونی اور پر امن طریقوں سے آزادی حاصل کرنا چاہتے تھے۔ نیتا جی سبھاش چندر بوس کا معاملہ سب سے مختلف تھا۔ انگریزوں سے آزادی کیلئے انہوں نے ایک قومی آزادی کی فوج بنالی تھی اور فسطائی ممالک سے مل کر برطانوی سامراج کو شکست دینے کے حامی تھے جبکہ کانگرس اور مسلم لیگ نے دوسری جنگ عظیم میں آزادی کی یقین دہانی پر برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کا ساتھ دینے پر تیار ہو گئے تھے۔ لیبر پارٹی اور اس کے لیڈر اور وائسرائے کی بھر پور کوشش تھی کہ کانگرس اور مسلم لیگ کسی ڈھیلے ڈھالے نیم وفاق اور خود مختار علاقائی وفاقوں پر متفق ہو جائیں۔ کیبنٹ مشن پلان یہی تھا جس میں کسی بھی علاقائی ریاست یا وفاق کو علیحدگی کا حق بھی دیا گیا تھا۔ قومی آزادی کے ماڈرن رہنماؤں کا بڑا مسئلہ یہ بھی تھا کہ وہ مستقبل کے آزاد ہندوستان کو برطانیہ کے جدید نو آبادیاتی مرکز کی عینک سے دیکھنے کے بڑے مشتاق تھے اور قومی آزادی کی جنگ کو بھی ( چین اور ویت نام کی آزادی کی جنگوں کے برعکس ) ایک آئینی وقانونی جدو جہد سمجھتے تھے جس میں نہرو، پاٹیل اور جناح تک سبھی سیکولر جمہوریت پسند اور آئینی حکمرانی کے قائل تھے۔ قومی آزادی کے جذبے کا یہ عالم تھا کہ جب لارڈ ماؤنٹ بیٹن پیشاور گئے اور آزادی کے حوالے سے کراچی آئے تو لاکھوں لوگوں نے برطانوی وائسرائے اور بادشاہ کی حمایت میں نعرے لگائے اور جب 15 اگست کو انہوں نے بھارتی پارلیمنٹ میں نہرو سے حلف لیا تو دہلی میں بھی انکے استقبال کے لیے لاکھوں کا مجمع تھا۔ صرف گاندھی جی ( جنہیں مہاتمہ کا خطاب بنگال کے عظیم شاعر را بندر ناتھ ٹیگور نے دیا تھا اور وندے ماترم کا ترانہ بھی ) کا
اپنا علیحدہ شراکتی اٹوٹ انگ اور عدم تشدد کا نظریہ تھا جس کے بڑے پیرو کاروں میں خان عبدالغفار خان اور مولانا ابوالکلام بھی شامل تھے۔ یہ صرف گاندھی جی تھے جنہوں نے حسین شہید سہروردی کو ساتھ ملا کر کلکتہ میں مرن برت رکھ کر فسادات کو روکا تھا۔ پھر انہوں نے دہلی میں مرن برت رکھا تا کہ مسلم کش فسادات کو روکا جاسکے اور مسلمانوں کی بحالی ہو سکے اور پاکستان کو ہندوستان کے مشترکہ ترکہ سے اس کا حصہ دینے کیلئے اس کا بتایا 45 ملین پاؤنڈ ادا کیا جاسکے، مسلمانوں کو دہلی میں انکے گھروں میں واپس لوٹا یا جاسکے اور مسجدوں کو ہندوؤں کے قبضے سے واگزار کروایا جا سکے۔ ابھی انہوں نے اپنے مرن برت کو ختم کرنے کا اعلان ہی کیا تھا کہ گاندھی جی نے اعلان کیا کہ وہ تین فروری سے پنجاب کا دورہ کریں گے اور دونوں طرف کے اجڑے ہوئے لوگوں کو انکے گھروں میں واپس لوٹوائیں گے ، کہ ہندو مہا سبھائی اور ہندو راشٹر سیوک سنگھ کے انتہا پسند ہندوؤں نے انکے قتل کا منصوبہ بنایا، ہندو انتہا سوار کر کی باتوں سے متاثر ہو کر ایک ہندو جنونی گوپال گھوٹے نے ان کا قتل کر دیا جس سے پورا بر صغیر سوگ میں مبتلا ہو گیا۔ پنجاب میں ہونے والے خون خرابے سے لگے زخموں پر گاندھی مرہم رکھ سکتے تھے یا نہیں جس کا کامیاب تجربہ انہوں نے کلکتہ اور دہلی میں کیا تھا۔ کسے معلوم؟ آخر ہوا یہ کہ جب پارٹیشن پلان پر آخری بات چیت ہو رہی تھی تو قائد اعظم ( جنہیں یہ خطاب 1939 میں دہلی کے ایک ایڈیٹر نے دیا تھا) نے ماؤنٹ بیٹن کو متحدہ پنجاب اور بنگال کو متحد رکھنے پر قاتل کرنے کے بڑے جتن کیے لیکن خود انکا دو قومی نظریہ پنجاب اور بنگال کی خونیں تقسیم کا باعث بنا۔ 13 اور 14 کی درمیانی شب جب آرمی چیف جنرل عاصم منیر یوم آزادی کی کاکول اکیڈمی میں پریڈ سے خطاب کر رہے تھے تو مجھے یاد آیا کہ آزادی کا اعلان 14 اور 15 اگست کی شب 12 بجکر ایک منٹ پر کیا گیا تھا کیونکہ نہرو کو جوتشیوں نے کہا تھا کہ 14 اگست کے شگون اچھے نہیں اور ماؤنٹ بیٹن سوشلسٹ نہرو کی ضعیف الاعتقادی پر مسکرائے بنا نہ رہ سکے تھے۔ عجب جنگ آزادی تھی کہ آزادی کا ابھی بھی انتظار ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں