111

وزیراعظم شہباز شریف کے چار کو ڈیٹا انگیخت: امتیاز عالم

Spread the love

میڈیا نے پاک فوج کے مماثل کے طور پر ”ریاست“ اور ”مقتدرہ“ کی اصلاح استعمال کرنا تو سنسرشپ کے زیر اثر شروع کی تھی جسے ایک عرصہ ہوا ماہرین سیاسیات ایک ”گیریژن سٹیٹ“ قرار دیتے آئے ہیں، لیکن اسے بام عروج پہ پہنچانے کا سہرہ وزیراعظم شہباز شریف کے سر پہ ہے۔ انکی شہباز سپیڈ حکومت کے آخری ہفتوں میں وہ کارنامے انجام دے پائی جسکی نظیر نہیں ملتی۔ جو بے جوڑ ہائبرڈ سیاسی نظام عمران خان کی طلسماتی کشش کے ہالے میں بنا گیا تھا، اسکے ادھڑنے پہ بجائے اسکے کے ہم اٹھارویں ترمیم والی جمہوریہ یا پھر پی ڈی ایم کی 26 نکاتی اور چارٹر آف ڈیماکریسی کی منشاﺅں کی جانب پلٹتے۔ شہباز شریف نے اسکے خلاف چار کوڈیٹا برپا کردئیے ہیں۔ جس پر چیک کیلئے ایک سیاسی عبوری وزیراعظم پہ اصرار سامنے آیا بھی ہے تو وہ اسحاق ڈار کے بلائنڈ پتے پر کنٹرورسی کی نذر ہوگیا۔ جو چار کو ڈیٹاز(Coup D’etat) ہوئے ہیں، ان سے ایک طرف براہ راست مارشل لا لگانے کے غیر ضروری تکلف سے عاقبت تو مل گئی لیکن ہر سو ”چھاﺅنی کی ریاست“ کی دھاک بیٹھ گئی ہے۔ جونہی چالو کاروبار کے تجربہ کار اسحاق ڈار کی آئی ایم ایف کی پنجالی سے سر بچانے کی کوششیں ناکام ہوئیں، وزیراعظم نے آگے بڑھ کر آئی ایم ایف کی پنجالی کو گلے ڈال کر پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کی ٹرافی جیت لی اور اس کا خطرہ 9 ماہ کیلئے ٹل گیا۔ محض بیرونی مالیاتی استحکام کے حصول پہ قناعت کرنے کی بجائے محترم وزیراعظم نے معیشت و گورننس کا بندوبست استمراری بھی کردیا۔ یہ معاشی کو ڈیٹا تھا جسے ایک صفحہ پہ ہونے نے جلا بخشی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نئی پیشرفت پر وزیراعظم اور آرمی چیف ایک دوسرے کو مبارکباد کا تبادلہ کرتے پائے گئے۔ سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کا قیام وفاق اور صوبوں کی تقریباً تمام قابل ذکر معاشی سرگرمیوں بالخصوص بیرونی سرمایہ کاری کیلئے بظاہر ایک ونڈو آپریشن کی سُبک رفتاری کیلئے لایا گیا۔ جسکی ایپکس کمیٹی کی سربراہی وزیراعظم آرمی چیف کی اعانت سے کریں گے اور جس کی انتظامی کمیٹی کی ذمہ داری ایک مستعد جنرل کے پاس ہوگی اور جسکے ورکنگ گروپس کو فوج کے اعلیٰ افسروں کے مضبوط ہاتھوں میں ہوگی۔ ایس آئی ایف سی کا دائرہ کار ہر اس شعبے اور جغرافیے تک پھیلا ہوگا جس میں بیرونی سرمایہ کاری اور کارپوریٹ سرمائے کی آمد کی توقع کی جاسکتی ہے۔ اس کے دائرہ کار میں ذراعت اور اس سے منسلک تمام شعبوں سے معدنیات، توانائی سے آبپاشی کے شعبہ ہائے جات، صنعت و برآمدات، انفارمیشن سے آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور دفاع و سلامتی (خارجہ امور؟) کے تمام امور شامل ہیں۔ لگتا ہے کہ ایوب خان کی ترقی کے ماڈل یا سبز انقلاب کی امیر کسان دوست حکمت عملی کو نئے سرے سے اپنالیا گیا ہے۔ اگر ایوب خان کے ماڈل کے تحت 22 خاندانوں کی سرمایہ دارانہ اجارہ داریاں بنیں اور دیہی امیروں کا ایک طبقہ پیدا ہوا۔ اس بار لگتا ہے کہ خلیج کے سرمائے سے عالمی کارپوریشنز اور فوجی کارپوریٹ سیکٹر کی اجارہ داریاں جنم لیں گی۔ اس ماورائے وفاق اور صوبائی دائرہ عمل سے بالا سپر سول و ملٹری کیبنٹ (ایپکس کمیٹی) کو تمام تر اختیارات حاصل ہونگے اور وفاقی و صوبائی منتخب حکومتیں محض تھوک چاٹتی رہ جائیں گی۔ ون ونڈو آپریشن، بیرونی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کرنے سے کس کو اختلاف ہوگا اور دنیا میں ایسا کرنے کے بے شمار کامیاب تجربات ہوچکے ہیں، ان سے استفادہ کرتے ہوئے گورننس کے نظام میں اصلاح احوال کی بجائے سارا بوجھ پاک فوج پہ ڈال دیا گیا ہے ۔ یقینا قدرتی آفات اور کرونا کی وبا سے نمٹنے کیلئے فوج کا منظم ڈھانچہ ایک فعال قوت ثابت ہوا جیسا کہ دنیا بھر میں ہوتا ہے۔ لیکن دنیا میں کہیں نہیں ہوتا کہ ساری کی ساری سویلین معیشت اٹھا کر چھاونی کے حوالے کردی جائے۔ یہ گناہ گار آنکھیں اس طرح کی چابکدستی سی پیک اتھارٹی کے قیام کے حوالے سے دیکھ چکی ہیں۔ جسکی قیادت جنرل عاصم باجوہ کو سونپی گئی تھی اور سی پیک ٹھپ ہوکر رہ گیا تھا۔ اب اس ناکام تجربے کا دائرہ وسیع کردیا گیا ہے ۔ خیر سے دم کٹی قومی اسمبلی نے کورم کے نہ ہونے کے باوجود بورڈ آف انویسٹمنٹ کے قانون میں ایسی انقلابی تبدیلیاں کردی ہیں جو SIFC کو اور اس کے تمام اقدامات کو کابینہ، عدلیہ اور تمام ریگولیٹری اتھارٹیز سے ماورا کردیں گی۔ اب آرمی ایکٹ کا دائرہ قومی مفادات اور اقتصادی ترقی تک پھیلا دیا گیا ہے اور اس کے تحت ہر طرح کی معاشی سرگرمی عدالتی مداخلت سے محفوظ کردی گئی ہے۔ چونکہ آئی ایم ایف کی سٹینڈ بائی ڈیل ہمیں 9 ماہ کیلئے ایک لگے بندھے معاشی راہ عمل سے باندھتی ہے اور SIFC کا تقاضہ ہے کہ عبوری حکومت کو وہ تمام اختیارات دے دئیے جائیں جو تسلسل کو آگے بڑھانے کے عمل کو ایک مستحکم صورت دے دیں۔ لہٰذا وزیراعظم صاحب نے دوسرا کو ڈیٹا عبوری حکومت کو تقریباً ایک منتخب حکومت کے مترادف قرار دلواکر کیا ہے۔ حکومتی اتحاد میں اس پر ہونے والی منی بغاوت اس امید پر دم توڑ گئی کہ پورے انتخابی عمل کے مثبت نتائج کے کو ڈیٹا پر جو کام ہورہا ہے، اس میں کچھ حصہ ملنے کی آس مقابلے میں آئے اتحادیوں میں بندھی رہے۔
وزیراعظم نے ان تین کو ڈیٹاز پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ ایک چوتھا کوڈیٹا بھی بڑی سبک رفتاری سے حق اظہار اور میڈیا و سوشل میڈیا کے خلاف بپا کردیا ہے۔ PECA کو بھول جائیے جسے شہری حقوق کے داعیوں نے ناکام بنادیا۔ اب ڈیجیٹل میڈیا کے حوالے سے ایسی تبدیلیاں کی جارہی ہیں جو سوشل میڈیا کی ”لعنت“ سے چھٹکارہ پاتے پاتے شاید پاکستان کو ایک ایسے انفارمیشن آئرن کرٹین میں قید کردے جو عالمی اطلاعاتی پلیٹ فارمز سے قطع تعلق کا باعث بن سکتا ہے۔ بھلا گوگل، فیس بک، یوٹیوب اور ٹویٹر جیسی عالمی کارپوریشنز اپنا ڈیٹا پاکستان میں کیوں رکھیں گی جہاں کسی کی پرائیویسی اور پرائیویٹ ڈیٹا پہلے ہی غیر محفوظ ہے۔ او رکچھ ہو نہ ہو سوشل میڈیا پہ جاری خانہ جنگی یا ”ففتھ جنریشن وار فیئر“ پہ روک لگانے کا بندوبست ضرور کرلیا جائے گا۔ بدقسمتی سے سوشل میڈیا پہ ایسی ایسی خوفناک مہمیں چل رہی ہیں کہ جن کے باعث آزادی اظہار کے کیس کو کمزور کردیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری طفلانہ مہم جوئی دراصل ایک اشتعال دلانے والا ایجنٹ ثابت ہوئی ہے۔ اب انکا معاملہ آرمی ایکٹ میں تبدیلی کے ساتھ فوجی عدالتوں میں چلے گا اور سزائیں بھی ہونگی۔ ڈر یہ ہے کہ گندم کے ساتھ گھن بھی نہ پس جائے۔ میرے جیسے لوگوں نے (جو پہلے ہی مین اسٹریم الیکٹرانک میڈیا کے مسنگ پرسنز میں شامل ہوگئے ہیں) جو چھوٹی موٹی جمہوری پرچار کی چھابڑیاں لگائی ہوئی تھیں وہ اب ضمیر کی آزادی کی دکانیں لپیٹیں اور زبان بندی کیلئے تیار رہیں۔
دریں اثناءکون ہے جو وزیراعظم شہباز شریف کی پیش رفتوں کے آگے ٹھہر پائے گا۔ بھلے نواز شریف چوتھی بار وزیراعظم بننے کے خواب کیسے ہی دیکھا کریں یا پھر آصف زرداری شطرنج کی کیسی ہی انوکھی چال چلا کریں اور بیچارے عمران خان کیسی ہی دہائی دیا کریں۔ شہباز سپیڈ کا کوئی مقابلہ نہیں۔ عبوری حکومت وہی چاہے گی، جو پیا من چاہے گا، بھلے عبوری وزیراعظم سیاسی ہو یا غیر سیاسی۔ پاکستان کا مقدر یہی ہے کہ اچھی روایات ترک کرو اور بری روایات ڈالنے میں کوئی کسر نہ چھوڑو۔ عشرہ محرم الحرام کی افسردگیوں اور آہ و بکا میں اگر کسی نے شمالی وزیرستان سے کوئی نوید سنائی ہے تو وہ یہ کہ وہاں چھ کھرب ڈالرز کے تانبے کے ذخائر برآمد ہوئے (تھے) ’ہیں‘ اور اب یہ معلوم نہیں کہ انکا ایک کھرب 100 ارب کا ہے یا 1000 ارب کا۔ شاید پانی سے کار کا پہیہ ایسے ہی چلتا ہے۔ یا پھر ایک عرصہ پہلے جو خلیجی سرمایہ کاری کی اُمیدیں لگائی گئی تھیں وہ سکیورٹی اداروں کی ضمانت پر وہ کچھ بر آئیں۔ دیکھتے رہیئے، خاموش تماشائی بنے بنا!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں