220

خیال نو کے پرانے سوداگر اور تعمیر نو انگیخت : امتیاز عالم

Spread the love

فکری کنگالی کے دور میں آجکل بڑا چرچا ہے پاکستان بارے خیال نو کے Reimagining Pakistan) پرانے سوداگروں کی درفنطنیوں کا ۔ معاشی دیوالیے کے آگے فکری بے بسی کا عالم یہ ہے کہ آئی ایم ایف کے گھسے پٹے نسخے کے سوا کسی کو کچھ سجھائی نہیں دے رہا۔ خواص کے قبضے کا ذکر تو بہت ہے، لیکن اصلاح احوال غریبوں کے لیے بوندوں کے چند خیراتی ٹیکوں سے آگے نہیں جاتی ۔ معاشی سلامتی کے گلے پڑے ڈھول کو بجانے والوں میں اتنی جرات بھی نہیں کہ وہ سلامتی کے بوجھ کو اُتارنے کا سرسری ذکر ہی کر دیں۔ اب پاکستان کو دوبارہ تصور کرنے والے طائفے (جس میں آئی ایم ایف کے بغل بچے مفتاح اسمعیل اور جنرل ضیا کے شیدائی خاقان عباسی وغیرہ شامل باجہ ہیں ) کے پاس کوئی نسخہ ہے تو عالمی سرمائے کے ساتھ دست نگری کے رشتے کو پھر سے استوار کرنے کا تا کہ پاکستانی خواص اپنے ہی پیدا کردہ بحران سے نکل پائیں ۔ ان کے پاس جو نسخہ ہے اس کی تان آئی ایم ایف سے گزرتے ہوئے قومی سلامتی کی ریاست کی بالا دستی پہ ٹوٹتی ہے۔ ممکنہ ٹیکنو کریٹس رجیم (جو ہائیر ڈرجیم ہی کا تسلسل ہے ) کے ان نئے درخواست گزاروں کے پاس عوامی خوشحالی کا کوئی پروگرام ہے، نہ حقیقی ڈائنامک معیشت کا کوئی لائحہ عمل ۔ اگر یہ پاکستان کی نام نہاد قومی بورژوازی (جو ہے نہیں ) ہی کی نمائندگی کر رہے ہوتے تو کم از کم مفت خور ریاست کا بھار ہلکا کرنے کی کچھ تو سعی کرتے ۔ آئی ایم ایف کی شرائط پر پیش رفت کا تمغہ لگا کر مفتاح اسمعیل کس کو بیوقوف بنارہے ہیں۔ تاجروں پر ٹیکس معاف اور 110 ارب روپے کی امدادی رقم انہوں نے کس کھاتے سے برآمد کنندگان کوادا کی تھی جو ابھی تک روپے کے دھڑام سے گرنے کے انتظار میں برآمدات سے کمائے ڈالر واپس نہیں لا رہے۔ وہ آزاد منڈی کی حشر سامانیوں پر کونسی کامرانیوں کے جھنڈے لہراتے پھر رہے ہیں۔ جبکہ وہ گماشتہ سرمایہ داری کے امین ہیں۔ خیال نو کے ان مبلغین کے پاس تو عوام کی منشاؤں اور قومی ترقی کا کوئی راہ عمل نہیں ہے۔ تعلیم ہو یا صحت یا روزگار، غرض تمام تر سماجی خدمات کو وہ نجی منافع خوروں کی سیج پر قربانی کا بکرا بنانے کی ہوشیاری پہ نازاں ہیں۔ سارے میڈیا میں اگر کوئی آئی ایم ایف کے گھسے پٹے نسخے پہ کسی نے تنقید کی بھی ہے تو ڈاکٹر اکبر زیدی، تیمورالرحمان اور ڈاکٹر اکمل حسین نے یا پھر پاکستانی اُمرا کی سوشیالوجی کا پردہ اگر کسی نے چاک کیا ہے تو صرف ڈاکٹر پرویز ہود بھائی نے ۔ باقی سب منافقت کا شکار ہیں۔ ایسے میں عمران خان کی اپنی زبر دست معاشی کارکردگی کی خودستائشی پر کوئی کف افسوس کیا ملے جن کے چار وزرائے خزانہ اور چھ فائنانس سیکرٹریز اپنے اپنے راگ الاپ کر سدھارے لیکن معیشت کو بیچ منجھدار چھوڑ کے چلتے بنے۔ رہی بات پاکستانی معیشت کے آزمودہ کار مستری اسحاق ڈار کی وہ بیچارے ڈالر کی کمیابی کی ، اس لیے نذر ہو گئے کہ دوست ملکوں کی مدد کی
پائپ لائن پر آئی ایم ایف کی ٹوٹی لگ گئی ان کا پیارا روپیہ دھڑام سے نیچے آن گرا۔ تینوں جماعتوں نے میثاق معیشت تو کبھی کا آئی ایم ایف کے پاس رہن رکھ چھوڑا ہے۔ اب آئی ایم ایف کی چھری چلنے کا وقت ہے، یہی مفتاح اسمعیل چاہتے تھے اور پاکستان کے عوام جو پہلے ہی مہنگائی کے ہاتھوں نڈھال ہیں بڑے برقی جھٹکوں کے لیے تیار رہیں۔ ایسے میں ن لیگ کی سپر ہیر ومریم نواز اُمید کی لو جگائیں گی بھی تو کیسے کہ چچا جان کی حکومت کی تمام پھرتیاں بالآخر آئی ایم ایف کی دہلیز پہ ہمت ہارجب تک بیباک ترقی پسند سیاسی معیشت دان اور انقلابی سیاستدان ایک سماجی کایا پلٹ، چین کی مدد سے معاشی چھلانگ اور عوامی ترقی و سلامتی کے نظریہ کے ساتھ سامنے نہیں آئیں گے پاکستان کی دست نگری کی قرض خوار اور کرا یہ خور معیشت اور اُس پر عذاب بنی سلامتی کی نو آبادیاتی ریاست اور اس کے دائی امراض سے نجات ممکن نہیں۔ مالیاتی و تجارتی اور مالی خسارے بیماری کی علامات ہیں جس کا وقتی حل صرف آئی ایم ایف کے پاس ہے جو بیماری کی جڑ کو دائمی بنائے رکھنے کا نسخہ ہے۔ ایک خوشحالی عوامی لحاظ سے ترقی یافتہ اور جدید پاکستان کے لیے ذیل میں تخریب اور تعمیر کے دو لائحہ عمل پیش خدمت ہیں۔ سب سے پہلے تو سیاسی معیشت کا سوال ہے۔ بیماری کی اصل وجہ خواص کے ناجائز قبضہ کو ختم کرنے کا ہے جسکا تعلق موجود پاور سٹرکچر سے ہے۔ اُسے توڑے بنا خواص کا قبضہ ختم ہوگا نہ انکی عیاشیاں اور مفت خوریاں جان چھوڑیں گی ۔ عمران خان مفت خوروں کو ساتھ ملا کر محض دوسروں کی مفت خور یاں ختم کرنے سے مڈل کلاس کی غیر سیاسی منشاؤں کی تشفی چاہتے ہیں اور وہ بھی سب سے مفت خور اداروں کی اشیر باد حاصل کر کے۔ ایک زراعت پیشہ ملک چند ہزار بڑے زمینداروں اور مکھی کھیتی باڑی سے غذائی کفالت کے قابل بھی نہیں۔ ہمہ گیر زرعی اصلاحات زمین کی کم از کم ملکیت کے تعین اور کسانوں کے جم غفیر کوزمین وزراعت کی جدید سہولیات فراہم کیے بنا زراعت معاشی بوجھ بنی رہے گی۔ پاکستان کی سرمایہ داری بنیادی طور پر مفت خور اور کرایہ خور ہے جن کا فائدہ صرف مافیاز اٹھاتی ہیں جو اس وقت بھی اپنے تہہ خانوں میں اربوں ڈالرز کے ذخیرے چھپائے بیٹھی ہیں۔انکا سب سے بڑا مسکن اسٹیٹ بزنس ہے یا تجارت اور اس پر پھلتا پھولتا لائف سٹائل اور پھیلتی ہاؤسنگ سوسائٹیز ۔ معیشت کی دستاویز ئیت سے فرار، ٹیکس چوری اور کالے دھن کا فروغ ان کا شیوہ ہے۔ صرف یہی ٹھیک کر دیا جائے اور غیر پیداواری اخراجات کم تر کر دیے جائیں تو بجٹ خسارہ تو ختم کیا جاسکتا ہے۔ ساری گماشتہ بورژوا معیشت کا ڈھانچہ درآمدی اشیا پرستی اور عیاشانہ کھیت پر مبنی ہے اور برآمدات فقط خام مال یا کم قدر کی اشیا کے محدود دائرے میں مقید ہیں۔ ایک پسماندہ صنعتی و تکنیکی وسائنسی بنیاد پر آپ آج کے زمانے میں برآمدی معیشت نہیں بن سکتے ، بھلے برآمد کنندگان کو کتنی ہی مراعات دیا کریں۔ نوجوانوں ک جم غفیر پہ نازاں حضرات نے کبھی سوچا ہے کہ تعلیم و تربیت ، جدید سائنس و ٹیکنالوجی کے حصول کے بنا
یہ نوجوان نسل سوحان روح بننے جارہی ہے اور ہمارے دین کے ٹھیکیداروں کا اگر زور ہے تو مدرسے کی علم دشمنی پہ یا پھر بے ہنر طالبان کی پیداوار پر۔ جب سارے تعلیمی نظام کو دقیانوسیت اور جہالت کے حوالے کر دیا جائے تو وہ نونہال کہاں سے پیدا ہوں گے جو اس ملک کو بام عروج پہ پہنچا سکتے ہوں۔ ہمارے حکمران جس اینٹی کلچر ، فرسودگی اور نمائش پسندی کو فروغ دے رہے ہیں، اُس کا حاصل ہر طرف چھائی ہوئی یا سیت اور بیگانگی میں نذر آتا ہے۔ خیال نو کے علمبرداروں کے پاس اس مسئلے کا کیا حل ہے کہ ایک نحیف و مقروض دست نگر معیشت کے اوپر جو اتنا بڑا غیر پیداواری اور مفت خور ریاستی سپرسٹر کھر کا نا قابل برداشت بوجھ لدا ہے، اسے اتارے بنا معاشی نمو اور قرضوں سے خلاصی کیسے ہوگی ؟ کوئی یہ کیوں کہنے کو تیار نہیں کہ 75 سال سے جاری سلامتی کی ریاست“ اور اس کے ناقابل حصول تذویراتی اہداف کے ہوتے ہوئے پاکستان اپنے وجودی بحران سے نہیں نکل سکتا۔ ایک غریب ایٹمی پاور ہے جو پیسے پیسے کی محتاج ہو کیسے چل سکتی ہے۔ کوئی یہ مانے کو بھی تیار نہیں کہ بھارت سے اسلحے کی دوڑ میں ہم مات کھاچکے، سوائے اس کے برصغیر کی باہمی تباہی کے اسباب سے دل بہلاتے رہیں۔ کشمیر حاصل کرتے کرتے ، ہم مشرقی پاکستان گنوا بیٹھے اور افغانستان کو اپنا پانچواں صوبہ بناتے بناتے ہم کھنڈرات کے وارث اور دہشت گردوں کے رحم و کرم کی نذر ہونے جارہے ہیں۔ ہماری خارجہ پالیسی کے پاس بس یہ رہ گیا ہے کہ ہم دنیا کو ڈرا ئیں کہ ہم خود کش بمبار ہیں، ہمیں ڈھیل وڈیل دو ورنہ ہم خود تو ڈوبے ہیں تمہیں بھی لے ڈوبیں گے۔ خیال نو پہ آئیے مذاکرہ کرتے ہیں اور تجدید نو کی فکر کرتے ہیں کہ عوامی سلامتی ہو، میرا دیس بچے اور آگے بڑھے!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں