15

نقیب اللہ محسود قتل کیس کا تحریری فیصلہ جاری…

Spread the love

انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے نقیب اللہ محسود قتل کیس کا تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کریمنل جسٹس سسٹم صرف شواہد پر کام کرتا ہے.پولیس کی غلطی کی ذمہ داری عدالتوں پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ کراچی سینٹرل جیل میں انسداد دہشتگردی کمپلیکس میں خصوصی عدالت نمبر 16 نے نقیب اللہ محسود قتل کیس کا 43 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔تحریری فیصلے کے مطابق عدالت نے سابق ایس ایس ملیر راؤ انوار، ڈی ایس پی قمر احمد سمیت 18 ملزمان کو مقدمہ سے بری کر دیا۔ دیگر بری ہونے والوں میں محمد یاسین، سپرد حسین، سید رئیس عباس، خضر حیات، اللہ یار کاکا، محمد اقبال، ارشد علی، غلام نازک، عبد العلی، شفیق احمد، محمد انار، علی اکبر، فیصل محمود، خیر محمد، سید عمران کاظمی اور شکیل فیروز شامل ہیں۔عدالت نے 7 مفرور ملزمان کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔ مفرور ملزمان میں امان اللہ مروت، گدا حسین، محسن عباس، صداقت حسین شاہ، راجہ شمیم مختار، رانا ریاض اور شیخ محمد شعیب عرف شوٹر شامل ہیں۔تحریری فیصلے میں عدالت نے کہا ہے کہ مقدمے میں شکوک و شہبات پائے گئے ہیں۔ اسلامی اور عالمی اصول کے تحت شکوک و شہبات کا فائدہ ملزم کے حق میں جاتا ہے۔ یہ اصول ہے کہ قاضی کی غلطی سے سزا کے بجائے بریت کا فیصلہ بہتر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں