124

انتخابات ، آرمی چیف اور توشہ خانہ سے آگے انگیخت امتیاز عالم

Spread the love

جو طوفان بپا ہے، اُسے بلاول بھٹو نے چائے کی پیالی میں اُبال قرار دے کر عمران خان کے ”رجیم چینج کی امریکی سازش “ پر یوٹرن کو خوش آمدید کہا ہے ۔ لیکن توشہ خانہ اسکینڈل پہ پہ در پہ یو ٹرنز نے خان کے شفاف لبادے پہ کرپشن کے نشانات کو عریاں کر دیا ہے ۔ رہی نئے آرمی چیف کی تعیناتی پہ جاری رسہ کشی تو اُس میں شاید عافیت اسی میں ہے کہ سپریم کورٹ کی طرح سنیارٹی کے اصول کو اپنا کر جنرل سید عامر منیر کو نیا آرمی چیف تعینات کر دیا جائے اور اگلے دو کمانڈرز میں سے ایک کو چیئرمین جوائنٹ چیف آف آرمی اسٹاف تعینات کر کے رہی سہی اداراتی تکریم برقرار رکھی جائے ۔ اگر کوئی اندرونی دھوبی پٹڑا نہیں ہو گیا اور فوج کی سیاست سے کنارہ کشی مقصود ہے تو سینئر ترین جنرل کی بطور آرمی چیف تعیناتی ایک حقیقت پسندانہ آپشن ہے ۔ لگتا یہی ہے کہ میاں نواز شریف سے عمران خان تک سبھی اس اصول کی پاسداری پہ مطمئن ہونگے اور فوج کی قیادت بھی اس پہ کیوں معترض ہو گی ۔جو بھی سپہ سالار بنے گا ، ہو گا تو فوج ہی کا فوج کیلئے ، سویلین کیوں اس پہ سٹے بازی کر رہے ہیں ۔ انتخابات کا معاملہ بھی اب کچھ زیادہ متناعہ نہیں رہا ، ایک دو مہینے سے کیا فرق پڑنے والا ہے ۔ بے مقصد لڑائیوں اور باہمی سر پھٹول پہ وقت ضائع کرنے سے ، البتہ معاشی بحران ہاتھوں سے نکلتا چلا گیا ہے اور سیلاب زدگان کی بحالی کے کام سے قومی و عالمی توجہ کم ہوتی چلی گئی ہے ۔ عالمی امداد کی اپیلوں پر 200ملین ڈالرز سے بھی کم مدد مل سکی ہے اور مصر میں ماحولیاتی کانفرنس میں وزیر ماحولیات شیری رحمان کی ”نقصانات و تباہی “کے ازالہ کیلئے فنڈنگ کی زبردست کاوشوں کے باوجود ابھی کچھ ٹھوس نتیجہ برآمد ہونے کی امید کم ہی ہے۔32ارب ڈالرز کے نقصانات کے ازالے کیلئے 16ارب ڈالرز کا تخمینہ اور اس کے حصول کا امکان کہیں دور دور تک نظر نہیں آ رہا ۔ اوپر سے جو 23ارب ڈالرز کی بیرونی فنڈنگ (قرض ) کا تخمینہ لگایا گیا تھا ، اس میں اب تک بمشکل 4ارب ڈالرز موذصول ہو سکے ہیں ۔ جبکہ پاکستان کامجموعی قرضہ 62ہزار ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے جس میں 12ہزار ارب روپے قرض میں اضافہ گذشتہ ستمبر سے اب تک بڑھ چکا ہے ۔ صرف اس برس قرض کی ادائیگی کیلئے 4.7کھرب ارب روپے درکار ہونگے ۔ ان حقائق کی روشنی میں کون یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ پاکستان کا ڈیفالٹ کا خطرہ ٹل گیا ہے جبکہ زر مبادلہ کے ذخائر 8ارب ڈالرز سے بھی کم ہیں ۔
ایسے دگرگوں معاشی حالات میں پاکستان کے مظلوم عوام کی حالت کیا ہو گی جب مہنگائی 26فیصدسے اوپرجا رہی ہے ۔ تقریباً 38 فیصد پاکستانی ہمہ طرف غربت کا شکار ہیں اورمزید 13فیصد لوگ اس بد تر غربت کے چنگل میں پھنسنے والے ہیں ۔ جسکا مطلب یہ ہے کہ ہر دوسرا پاکستانی یعنی 11کروڑ پاکستانی بد ترین افلاس کا شکار ہیں یا ہونے جا رہے ہیں ۔ایسے میں شہباز حکومت رہے یا عمران خان واپس اقتدارمیں آئیں ، آرمی چیف کون لگتا ہے ، کون نہیں ۔ یہ ظالم معاشی بحران کا چکر ختم ہونے والا نہیں ۔ یہ سب سیاسی بونو اور تحکماتی اداروں کے افلاس کے بس کی بات نہیں ہے ۔ پاکستان جس ہمہ گیر معاشی و اداراتی بحران کی لپیٹ میں ہے ، اسکے حل کا کوئی آسان و سادہ حل نہیں اور نہ ہی کوئی شارٹ کٹ ہے ۔ قرضوں پہ دارومدار کا مفت خور راستہ معدوم ہو چلا ہے ۔
اب تو قرضوں سے قرضوں کی ادائیگی بھی مشکل تر ہو گئی ہے ( تقریباً 76فیصد ) تقریباً 5کھرب کے قرض ادا کرنے کے بعد خزانہ خالی سمجھیں ۔ دفاع کیلئے پیسے ہونگے ، نہ انتظامیہ کیلئے اور ترقیاتی بجٹ اللہ کے حوالے ۔ کون کہتا ہے کہ سر لنکا بننے کا خطرہ ٹل گیا ہے ۔ اوپر سے سیلابوں نے نہ صرف تباہی مچائی ہے ، بلکہ معیشت کا پہیا بھی سست تر ہوتا جا رہا ہے ۔ قومی آمدنی کا 10فیصد تو ویسے بھی ماحولیاتی تباہی کی نزر ہو چکا ہے ، رہی سہی کسر مہنگائی ، روپے کی بے قدری ، کساد بازاری اور سیاسی عدم استحکام نے پوری کر دی ہے ۔ ایک تباہ حال پاکستان سے سیاسی جماعتیں اور ادارے اب کونسا خراج وصول کرنے کی تگ و دو میں ہیں ، بچا ہی کچھ نہیں تو لاشے کو نوچنے سے سے رہے ۔
اندریں حالات پاکستان تباہی کے دہانے پر ہے ، انقلاب تو نہیں ، طوائف الملوکی ہی نہ مقدر ٹھہرے ۔ ایک مفت خور خرچیلی ریاست اگر اپنے خرچے آدھے سے کم پہ تیار نہیں ہوتی تو دھڑام سے گر سکتی ہے ۔ آدھی معیشت ٹیکس دائرے سے باہر رہتی ہے تو مملکت کی گاڑی چلنے والی نہیں ۔ سرکاری کارپوریشنز کے نقصانات سے فوری جان نہیں چھڑائی جاتی تو وہ قوم کی جان قبض کر لیں گی ۔ ہر آمدنی والے کو ٹیکس میں نہیں لایا جاتا اور امراکی تمام مراعات کو ختم نہیں کیا جاتا تو خزانہ خالی ہی رہے گا ۔ ججوں ، جرنیلوں اور بیوروکریٹس کی تنخواہیں اور وظائف تین چوتھائی ختم کیے بنا چارہ نہیں ۔ غرض یہ کہ اُمرا کا قبضہ ، مفت خوری اور عیاشی کو ختم کرنے کا وقت آن پہنچا ہے ۔ قرض کے پھندے سے نکلنے کیلئے قرضوں کی ری شیڈولنگ ، معافی اور تمام تر غیر پیداواری کاموں کیلئے قرضوں پر بندش کے ساتھ ساتھ ایک دور رس منصوبے کی ضرورت ہے کہ کس طرح ان سے خلاصی پائی جائے ۔ یہ اقدامات تو فقط بدتر حال سے نکلنے کیلئے اشد ضروری ہیں ۔ دست نگری ، پسماندگی اور غیر پیداواری مفت خور اور کرایہ خور معیشت کی جگہ ایک ہمہ نو ترقی کے عوامی ماڈل کو اختیار کرتے ہوئے ۔ پیداواری صلاحیت ، پیشہ ورانہ مہارت ، تعلیم و صحت اور انسانی و معاشی سلامتی کے نظریہ کو اپنانے کی ضرورت ہے جس کے لیے موجودہ حکمران طبقوں میں وہ صلاحیت نہیں ۔ وہ الٹا اس بحران کے ذمہ دار ہیں اور ان کے ہوتے ہوئے کوئی سماجی و معاشی کایا پلٹ ہونے والی نہیں ۔ بوسیدہ حکمرانوں اور ان کے نمائندوں سے چھٹکارا پائے بنا موجودہ لا ینحل بحران کا کوئی پائیدار حل ممکن نہیں ۔ عمران خان اورموجودہ اتحادی حکومت کی اتحادی جماعتیں جو مرضی دھما چوکڑی کرتی رہیں ، یہ بحران ٹلنے والا نہیں ۔ اب ایک پریشان شہری دیکھے تو کس طرف ، کوئی پرسان حال نہیں ۔ ایسے میں غیب سے امداد بھی آنے والی نہیں جب تک کہ اس ملک کے عوام نہیں جاگتے اور تاریخ کی کایا پلٹ نہیں دیتے ۔ اے لوگو! کب اُٹھو گے ، وقت حشر آن پہنچا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں