18

جعلی نکاح نامے کے خلاف قانونی جنگ لڑنے والی خاتون 10 سال بعد مقدمہ جیت گئی…

Spread the love

جعلی نکاح نامے کے خلاف قانونی جنگ لڑنے والی خاتون 10 سال بعد مقدمہ جیت گئی اور لاہور ہائیکورٹ نے بختاور بی بی کا چچا زاد معظم سے 2012 کا نکاح نامہ جعلی قرار دے دیا۔لاہور کے جسٹس عابد حسین نے بختاور کے خلاف فیملی کورٹ اور سیشن عدالت کے نکاح کو درست قرار دینے کے فیصلے بھی کالعدم کر دیے۔عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ نکاح کی پوری کہانی ایک معمہ ہےمبینہ نکاح ان کے گاؤں میں نہیں ہوا جبکہ اس میں والدین اور رشتہ دار بھی نہیں تھے.نکاح نامے کے گواہ معظم کے دوست جبکہ خاتون کیلئے اجنبی ہیں۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نکاح رجسٹرار بھی خاتون اور اس کی رہائش گاہ کے متعلق نہیں جانتا.بختاور نے معظم کے ساتھ 28 مارچ 2012 کو بنے نکاح نامے کو چیلنج کیا تھا اور بختاور کے مطابق اس نے والدین کو بتایا جس کے بعد پنچایت بلائی گئی اور پنچایت میں معظم نے غلطی مان کر طلاق دے دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں