30

کون بنے گا اگلا آرمی چیف؟

Spread the love

حکومت کے لیے تقریباً وقت آگیا ہے کہ وہ اپنے دور حکومت کے سب سے مشکل ترین فیصلوں میں سے ایک فیصلہ کرے کہ پاکستان کا اگلا آرمی چیف کس کو مقرر کرنا ہے۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے ایک سینئر رہنما اور وفاقی کابینہ کے رکن نے پس پردہ ہونے والی گفتگو کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف اگست کے آخر تک تقرری پر بات چیت شروع کرسکتے ہیں اور ممکنہ طور پر ستمبر کے وسط تک کوئی فیصلہ کرسکتے ہیں۔
عام تاثر یہ ہے کہ وہ حتمی فیصلہ لینے سے قبل حکمران اتحاد میں شامل اپنے اتحادیوں سے مشورہ کریں گے. تاہم پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک ذریعے نے کہا ہے کہ پارٹی شاید اس فیصلے کا حصہ نہیں بننا چاہے گی کیونکہ یہ فیصلہ کرنا وزیر اعظم کا صوابدیدی اختیار ہے۔رولز آف بزنس کا شیڈول 5-اے وزیر اعظم کو آرمی چیف کی منظوری کے لیے پیش کیے جانے والے کیسز کی وضاحت کرتا ہے جس کے مطابق فوج میں لیفٹیننٹ جنرل یا دفاعی سروسز میں اس سے مساوی عہدے پر تقرر وزیر اعظم، صدر سے مشاورت کے بعد کریں گے۔البتہ اس بات کی قانون کی کتاب میں زیادہ تفصیل سے وضاحت نہیں کی گئی کہ یہ عمل کس طریقے سے کام کرتا ہےنہ ہی کسی رینک کے افسر کی ترقی کے لیے اس مبہم شرط کے سوا کوئی خاص معیار مقرر کیا گیا ہے کہ فوج کی قیادت کے لیے منتخب جنرل ایک کور کی کمان کر چکا ہو۔
روایت یہ ہے کہ جنرل ہیڈکوارٹرز چار سے پانچ سینئر ترین لیفٹیننٹ جنرلز کی فہرست ان کی ذاتی فائلوں کے ساتھ وزارت دفاع کو بھیجتا ہے جو انہیں وزیرِ اعظم کے پاس بھیجتی ہے تاکہ وہ جس افسر کو اس عہدے کے لیے موزوں تصور کریں اسے منتخب کریں۔قانونی طور پر وزارت دفاع، وزیر اعظم کو نام پیش کرنے سے قبل ناموں کی جانچ کر سکتی ہے لیکن ایسا عام طور پر نہیں ہوتا اور وزارت محض ایک ڈاک خانے کے طور پر کام کرتی ہے۔اس کے بعد جرنیلوں کی قابلیت پر وزیر اعظم کے دفتر یا کابینہ میں غور کیا جاتا ہے. اس کے بعد اس معاملے میں وزیر اعظم سبکدوش ہونے والے آرمی چیف کے ساتھ غیر رسمی مشاورت کرتے ہیں. ان کے اپنے تاثرات بھی اہمیت رکھتے ہیں اور وہ اپنے قریبی مشیروں سے بھی اس حوالے سے بات چیت کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں