152

پنجاب میں سیاست کی دھماچوکڑی کے مضمرات انگیخت: امتیاز عالم

Spread the love

پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ کے انتخاب پر پھر سے سیاسی و آئینی طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ پچھلی بار حمزہ شہباز بڑی ”اکثریت“ سے کامیاب ہوئے تھے، لیکن کامیابی کا سہرہ سجانے والے تحریک انصاف کے پچیس منحرفین اپنی نشستیں گنوا بیٹھے اور عمران خان نے ایک طوفانی مہم سے بیس میں سے پندرہ نشستیں جیت کر انتخابی معرکہ سر کرلیا تھا، لیکن اخلاقی و عددی برتری کے باوجود گزشتہ روز کے وزیراعلیٰ کے انتخاب میں واضح اکثریت کے باوجود عمران خان کے بقول ”پنجاب کے سب سے بڑے ڈاکو“ پر وزارت اعلیٰ کا تاج نہ سجاسکے۔ آئین کے آرٹیکل 63-A کی سپریم کورٹ کی تشریح جو تحریک انصاف کے خوب کام آئی، اس بار مسلم لیگ ق کے 10 ووٹ گنے جانے کی راہ میں حائل ہوگئی۔ یوں چوہدری پرویز الہٰی کے 186 اکثریتی ووٹوں کے باوجود حمزہ شہباز سات ووٹ کم ہونے کے باوجود 179 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے۔ مسلم لیگ ق کے صدر شجاعت حسین کے خط کی بنیاد پر ڈپٹی سپیکر نے ق لیگ کے 10 ووٹ شمار نہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں پرویز الہٰی کی شکست اور حمزہ شہباز کی فتح کا اعلان کردیا۔ اب وکلا کی فوجیں ہیں جو آئین کے آرٹیکل 63-A کی مختلف تشریحات کررہی ہیں۔ ایک گروپ کہہ رہا ہے کہ پارلیمانی پارٹی کا فیصلہ (اگر تھا) تو بنیادی ہے، جبکہ دوسرا گروپ پارٹی سربراہ کی ہدایت کو فیصلہ کن قرار دے رہا ہے۔ مجھے یاد نہیں کہ کبھی پاکستان میں کسی پارلیمانی پارٹی نے کسی بڑے فیصلے کا اختیار پارٹی سربراہ کی بجائے کسی اور کو دیا ہو۔ بدقسمتی سے سپریم کورٹ کے پہ در پہ فیصلوں اور خاص طور پہ 17 مئی کے فیصلے سے اتنا کنفیوژن پھیلا ہے کہ آرٹیکل 63-A کی نئی تشریح سے یہ شق پارٹی سربراہ کے حق میں اور اراکین کے اپنی مرضی سے ووٹ ڈالنے کے استحقاق کے خلاف سمجھی جارہی ہے۔ جس میں اگر کوئی رکن پارٹی سربراہ کی ہدایت کے خلاف ووٹ بھی دے گا تو وہ شمار نہیں ہوگا۔ یہی ڈپٹی سپیکر نے کہا اور عددی اکثریت ہار گئی جو بنیادی جمہوری اصول کے منافی ہے۔ اس سب ٹوپی ڈرامے کے پیچھے سیاست کے بڑے کھلاڑی آصف علی زرداری انتخاب سے ایک روز قبل رات گئے چوہدری شجاعت حسین کو پی ٹی آئی کے امیدوار کو ناکام بنانے کے لیے ایک خط لکھوانے میں کامیاب ہوگئے اور بساط پلٹ گئی۔ آصف زرداری اور شجاعت حسین میں اتفاق تھا کہ پرویز الہٰی اگر مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے امیدوار بن جائیں تو انہیں سپورٹ کیا جائے، لیکن اگر وہ تحریک انصاف کے امیدوار رہیں گے تو ان کی مخالفت اور حمزہ شہباز کی حمایت کی جائے۔ یوں پنجاب تحریک انصاف کے ہاتھ میں آتا آتا مسلم لیگ ن کے پاس فی الوقت بچ رہا ہے۔ لیکن کتنے روز؟
اب معاملہ پھر سپریم کورٹ کے پاس ہے جس نے رات گئے ڈپٹی سپیکر کے فیصلے کے خلاف رٹ پٹیشن قبول کرلی ہے۔ اب سپریم کورٹ اپنے ہی فیصلے کی پھر سے کیا تشریح کرتی ہے، کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ لیکن حکمران اتحاد نے مطالبہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ کا گزشتہ بنچ نہیں بلکہ پوری سپریم کورٹ کا مکمل بنچ اس معاملے یا آرٹیکل 63-A جیسا کہ وہ ہے بارے فیصلہ کر کرے نہ کہ آئینی تشریح کے نام پر آئین کی شق کو ہی بدل کر رکھ دے جو کہ مقننہ کا حق ہے۔ ‏بادی النظر میں وزیراعلی حمزہ شہباز سوموار کو فارغ ہو جائیں گے۔ اتوار کو پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی سپیکر کی رولنگ اور حمزہ کا انتخاب کالعدم اور حمزہ کی بطور رسمی وزیر آعلی کے یکم جولائ والی پوزیشن واپس۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ۔ اب ایک اور عدالتی قلابازی کیلیئے تیار رہیں۔
اگر چوہدری شجاعت نے پارٹی لیڈر کی خلاف ورزی
کے جرم میں ق لیگ کے 10 اراکین کی نشستیں خالی کرنے کا خط ڈپٹی سپیکر کو لکھ دیا اور الیکشن کمشن تک جب یہ پنہچے گا تو پرویزالہی اور انکی بننے والی حکومت جا مستقبل کیا ہوگا؟ کمشن کے گزشتہ فیصلے کی روشنی میں یہ نشستیں خالی ہوسکتی ہیں۔اس ساری دھما چوکڑی میں پارلیمانی سیاست، جمہوری اقدار اور آئینی بالادستی کا جنازہ نکل گیا ہے۔ جو سیاسی بحران عمران خان کے خلاف قبل از وقت عدم اعتماد کے کامیاب ووٹ سے شروع ہوا تھا وہ اب پنجاب کی سیاست کے سنگھا سن کو ہلا رہا ہے، جس کے سنگین نتائج آئندہ دنوں میں معیشت کے لیے مہلک ترین مضمرات کے ساتھ ظہور پذیر ہوں گے۔ سیاست کا ایک تماشہ لگا ہے اور ملک معاشی طور پر ڈوب رہا ہے۔ سیاست کا بھی کیا المیہ ہے کہ پاکستان کی تینوں بڑی پارٹیاں ایک ایسی جماعت (مسلم لیگ ق) کی اندرونی خاندانی خلفشار کی نذر ہوگئی ہیں جو جنرل ضیا الحق اور جنرل مشرف کے سیاسی فراڈ چلانے کے لیے بنائی گئی تھی۔ ایک پرویز الہٰی کی سیاسی قلابازیوں اور چوہدری خاندان کی اندرونی رسہ کشی نے تینوں بڑی جماعتوں کو بے دست دبا کر کے رکھ دیا ہے۔ کہتے ہیں کہ ایک گندی مچھلی سارے تالاب کو خراب کرسکتی ہے۔ لیکن یہاں تو آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے۔ اس میں آصف زرداری کی سیاسی چال بازی کو دوش کیوں؟ سارے فریقین اپنے اپنے مفاد اور پاور سٹرگل میں کبھی ایک اصول کا پرچم بلند کرتے ہیں تو دوسرے ہی لمحے اس پرچم کو رسوا کردیتے ہیں۔ اصول رہا، نہ پارلیمانی اقدار، جمہوریت کے خدوخال مٹے ہیں تو آئین کی بے حرمتی اور عدلیہ کے متضاد فیصلوں سے اداروں کی بے توقیری زبان زدعام ہے۔
سیاستدان ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کررہے۔ نہ ہی عمران خان اپوزیشن لیڈر کے طور پر کھیل کے کسی اصول پر کھڑے ہوتے نظر آرہے ہیں۔ اب انتخابات نومبر میں ہوں یا مارچ میں یا اس سے آگے، کچھ زیادہ فرق پڑنے والا نہیں۔ نہ ہی نیوٹریلیٹی پہ مصر مقتدرہ یا افواج کی سیاست سے عدم دلچسپی وجہ نزاع ہونی چاہیے جو کہ ایک مثبت تبدیلی ہے۔ اگر کوئی بات قومی پریشانی کی سب سے بڑی وجہ ہے وہ ہے معاشی بحران جو گزشتہ تمام حکومتوں ہی کی دین ہے اور سبھی پر قومی ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ وہ مل کر معاشی سلامتی و بحالی کے لیے ایک ایجنڈے پہ آئیں اور آئندہ کے انتخابات کے فریم ورک پر اتفاق رائے پیدا کریں۔ اتحادی حکومت معاشی بحران کا پتھر اُٹھارہی ہے تو عمران خان کیوں انارکی پیدا کرنے پہ تلے ہوئے ہیں۔ ملک کا معاشی دیوالیہ مکمل طور پر پٹ گیا تو پھر کوئی حکومت چل پائے گی نہ ملک سنبھل پائے گا۔ اب کوئی فوجی نسخہ بھی کام نہ آئے گا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عمران خان کو معاشی سلامتی و بحالی اور آئندہ صاف و شفاف انتخابات پہ کھلے ایجنڈے اور کھلے دل کے ساتھ دعوے دے اور عمران خان جو پنجاب کی حکومت لینے کے لیے اتنے بے چین ہیں اور ضمنی انتخابات میں بھرپور شرکت سے کھوئی ہوئی صوبائی نشستیں حاصل کرتے ہیں، ان کی قومی اسمبلی میں واپس نہ جانے کی بات سمجھ سے باہر ہے۔ اگر آپ آئینی و پارلیمانی دائرے میں رہنا چاہتے ہیں اور اسے برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو پھر بات چیت کی میز پر آنا ہوگا۔ سڑکوں کو گرمانے سے پاکستان سری لنکا ہی بن سکتا ہے جہاں اب کوئی حکومت چل نہیں پارہی۔ بہتر ہے کہ ہوش کے ناخن لیں اور وسیع تر قومی مفاد میں ایک چارٹر آف معیشت اور چارٹر آف ڈیماکریسی پر اتفاق کریں اور ملک کی نیا ڈوبنے سے بچائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں